ریاض، 19 ستمبر (ایجنسیز): سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہفتہ کو کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب شدید دھویں کے ساتھ آگ کے شعلے دیکھے گئے، جس کے بعد شہر میں تشویش پھیل گئی۔ سعودی حکام نے رات کے اوقات میں شہریوں کے موبائل فون پر فضائی حملوں سے متعلق انتباہ جاری کیا تھا۔ یہ ریاض کے لیے یمن میں ایران حمایت یافتہ حوثیوں کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کے بعد پہلا ایسا انتباہ بتایا گیا ہے۔ ایئرپورٹ کے قریب واقع ایک ایندھن ذخیرہ کرنے والے ٹینک میں آگ لگنے کی اطلاع ہے۔ مذکورہ ٹینک پر سعودی تیل کمپنی آرامکو کا لوگو نمایاں تھا۔ فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پانے کے لیے کارروائی کی۔ ریاض کے مختلف علاقوں میں مقامی افراد نے دھماکوں جیسی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔ ایک شہری کے مطابق ایئرپورٹ کی سمت سیاہ دھواں اور آگ کے شعلے دکھائی دے رہے تھے۔ پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ نے ریاض ایئرپورٹ پر ’’شدید خلل‘‘ کی نشاندہی کی۔ ایئرپورٹ کو اس کے زیادہ سے زیادہ ڈسٹرپشن انڈیکس پر رکھا گیا، جہاں طویل تاخیر اور بعض پروازوں کی منسوخی کی اطلاعات تھیں۔