ریونت ریڈی نے امبیڈکر ہاوز اور یونیورسٹی آف لندن کا دورہ کیا،حیدرآباد میں کیمپس کے قیام سے اتفاق، ڈاکٹر امبیڈکر کی شخصی اشیاء کے معائنہ پر اظہار مسرت

   

حیدرآباد۔ 23 اگست (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے دورۂ لندن کے آخری مرحلہ میں یونیورسٹی آف لندن اور امبیڈکر ہاوز کا دورہ کیا اور کیمبریج یونیورسٹی کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈی سریدھر بابو کے ہمراہ ریونت ریڈی نے امبیڈکر ہاوز کا دورہ کیا جہاں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر 1921-22 کے دوران پرائم روز علاقہ میں واقع کنگ ہنریز روڈ پر قیام پذیر تھے۔ ریونت ریڈی نے وزیٹرس ڈائری میں اپنے تاثرات درج کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر جیسی عظیم شخصیت کی قیام گاہ کا دورہ کسی روحانی مقام کی زیادرت سے کم نہیں ہے۔ یہ دورہ زندگی بھر کے لئے تحریک فراہم کرتا ہے، سماجی انصاف کے لئے لگن کے ساتھ کام کرنے کا میرا عزم اس دورہ کے بعد مزید مضبوط ہوا ہے۔ امبیڈکر ہاوز کو اب ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے نظریات اور اصولوں کے لئے وقف میوزیم میں تبدیل کیا گیا ہے۔ میوزیم میں آئینی اقدار، مساوات، ذات پات سے پاک معاشرہ، استحصال سے پاک معاشرہ اور سماجی انصاف کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ڈاکٹر امبیڈکر کے نظریات کو اُجاگر کیا گیا ہے۔ ریونت ریڈی تقریباً ایک گھنٹہ سے زائد تک امبیڈکر ہاوز میں رہے اور ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی تنظیم ACDA کی صدر نشین سنتوش داس نے ریونت ریڈی کو برطانیہ میں امبیڈکر کی زندگی سے متعلق اہم پہلوؤں سے واقف کرایا۔ سنتوش داس نے امبیڈکر میوزیم کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ امبیڈکر ہاوز کا دورہ میری زندگی کے عظیم لمحات میں سے ایک ہے۔ ہندوستان کی عظیم شخصیتوں میں سے ایک ڈاکٹر امبیڈکر کی زندگی کے ذاتی پہلوؤں کو دیکھنا اور ان سے وابستہ اشیاء کو چھونا میرے لئے عظیم اور یادگار تجربہ ہے۔ اسی دوران لندن یونیورسٹی نے حیدرآباد میں اپنا کیمپس قائم کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ یونیورسٹی کے نمائندوں نے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ملاقات کے دوران کیمپس کے قیام پر آمادگی ظاہر کی۔ یونیورسٹی کے سنیٹ ہاوز میں ریونت ریڈی نے یونیورسٹی حکام سے تعلیمی اشتراک پر تفصیلی بات چیت کی۔ وزیر آئی ٹی سریدھر بابو، حکومت کے مشیر رام کرشنا راؤ اور جیش رنجن کے علاوہ یونیورسٹی کے نمائندوں نے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس، اسکول آف اورینٹل اینڈ آفریقن اسٹڈیز اور لندن یونیورسٹی کے دیگر تعلیمی اداروں کے نمائندے موجود تھے۔ لندن یونیورسٹی کے نمائندوں نے کہا کہ حیدرآباد میں کیمپس قائم کرنے کے لئے اقدامات جاری ہیں۔ مجوزہ کیمپس کے ذریعہ یونیورسٹی کے مختلف اسکولوں اور شعبہ جات کی جانب سے تعلیمی کورسیس اور پروگرام پیش کئے جائیں گے۔ یونیورسٹی کے مختلف تعلیمی شعبہ جات کو ایک مشترکہ اکیڈیمک فیڈریشن کے تحت مربوط کرتے ہوئے تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا۔ لندن کیمبریج یونیورسٹی کے نمائندوں نے بھی ریونت ریڈی سے ملاقات کی اور تلنگانہ حکومت سے تعلیمی شعبہ میں اشتراک کا جائزہ لیا۔ سریدھر بابو نے حیدرآباد میں عالمی سطح کے تعلیمی اور تحقیقی اداروں کی موجودگی سے واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کو نالج ہب میں تبدیل کرنے کے لئے بین الاقوامی اداروں کی شراکت ضروری ہے۔ کیمبریج بزنس اسکول کے پروفیسر جئے دیپ پربھو جو حکومت ہند کے تعاون سے مارکٹنگ کے چیرپرسن ہیں ان کے علاوہ پروفیسر وینکٹاسریش نے تلنگانہ کے ساتھ شراکت داری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ 1؍F