سالارجنگ میوزیم میں ساورکر اور ہیڈگیوار کی تصاویر

   

نئی نسل کو گمراہ کرنے کی کوشش، کانگریس کے اقلیتی قائدین کا احتجاج
حیدرآباد۔23۔ مئی (سیاست نیوز) حیدرآباد کے تاریخی سالارجنگ میوزیم میں ہندو مہا سبھا کے لیڈر ونائک دامودر ساورکر اور آر ایس ایس کے بانی ڈاکٹر کے بی ہیڈگیوار کے پورٹریٹ کو نمائش کیلئے شامل کیا گیا ہے ۔ سالارجنگ میوزیم انتظامیہ کے اس فیصلہ سے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سالارجنگ میوزیم چونکہ مرکزی حکومت کے تحت ہے، لہذا حکومت کے اشارہ پر دو متنازعہ شخصیتوں کے پورٹریٹ میوزیم میں نمائش کیلئے رکھے گئے تاکہ نئی نسل کو ان دونوں شخصیات کا مجاہدین آزادی کے طور پر تعارف کرایا جائے۔ یہ پہلا موقع ہے جب سالارجنگ میوزیم میں کسی متنازعہ شخصیت کی تصویر شامل کی گئی ہے۔ یوں تو جدوجہد آزادی میں قربانیاں دینے والے کئی مسلمان اور ہندو شخصیتیں شامل ہیں لیکن انہیں سالارجنگ میوزیم میں جگہ نہیں دی گئی۔ ایسے وقت جبکہ ملک بھر میں ہندوتوا طاقتیں اپنی سرگرمیوں کو تیز کرچکی ہیں، سرکاری اداروں میں بھی اثر دکھائی دینے لگا ہے۔ سالارجنگ میوزیم کے بورڈ آف ڈائرکٹر نے سالارجنگ خاندان کے نمائندے شامل ہیں لیکن بورڈ کی منظوری کے بغیر ہی ہیڈگیوار اور ساورکر کی تصاویر کو شامل کردیا گیا ۔ اسی دوران کانگریس کے اقلیتی قائدین عثمان محمد خاں اور متین شریف نے سالارجنگ میوزیم کا دورہ کرتے ہوئے ساورکر کے پورٹریٹ کا جائزہ لیا۔ ان قائدین نے کہا کہ انگریزوں کے لئے کام کرنے والے شخص کی تصویر کو میوزیم میں شامل کرنا مجاہدین آزادی کی توہین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساورکر پر مہاتما گاندھی کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ کانگریس قائدین نے ساورکر کی تصویر کو فوری ہٹانے کا مطالبہ کیا اور اس سلسلہ میں ریاستی حکومت اور مقامی رکن پارلیمنٹ سے فوری توجہ دینے کی اپیل کی۔ ر