سرحدی علاقوں کی حفاظت کیلئے ’علاقائی سلامتی‘ زیر غور: امیت شاہ

   

نئی دہلی، 29مئی (یواین آئی) مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا ہے کہ حکومت سرحدی سلامتی کے تصور کو مکمل طور پر تبدیل کرتے ہوئے آنے والے دنوں میں ایک ’چہار رخی سکیورٹی گرڈ‘قائم کرے گی اور سرحدی حفاظت کی جگہ ’علاقائی سلامتی‘ (ٹیریٹوریل سکیورٹی) کے نئے تصور کا آغاز کرے گی۔ امیت شاہ نے جمعہ کو گجرات کے بھج میں ہند۔پاکستان سرحد پر واقع جی7 بارڈر چوکی پر جوانوں سے بات چیت کی اور جی7و جی13چوکیوں کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل، نائب وزیر اعلیٰ ہرش سنگھوی، مرکزی داخلہ سیکریٹری، آئی بی ڈائریکٹر و دیگر موجود تھے۔
سرحدی انتظامیہ کے سیکریٹری اور بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے ڈائریکٹر جنرل سمیت کئی اعلیٰ افسران موجود تھے ۔ سرحدی علاقوں کی سلامتی کے نئے تصور کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی ایس ایف کے قیام کے 60ویں سال میں حکومت نے بی ایس ایف کی سرحدی حفاظت کے تصور کو مکمل طور پر بدلنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ”ہم آنے والے دنوں میں ایک چہار رخی سکیورٹی گرڈ قائم کریں گے اور صرف سرحدی حفاظت کے بجائے ‘علاقائی سلامتی’ کے نئے تصور کا آغاز کریں گے ۔” انہوں نے کہا کہ اس نظام میں عوام، سول انتظامیہ، مقامی پولیس، فوج اور بی ایس ایف اہلکاروں کی مشترکہ اور اہم ذمہ داری ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ”اسمارٹ بارڈر سکیورٹی پروجیکٹ” کے تحت سرحدی سکیورٹی گرڈ کو مضبوط بنانے کا کام جاری ہے ، جس پر ہزاروں کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈرون، ریڈار، واچ ٹاورز، جدید ٹیکنالوجی اور جوانوں کی تعیناتی سے ایک مضبوط سکیورٹی نظام قائم ہوگا، جس کے بعد کوئی بھی ہماری سرحد میں دراندازی کی جرات نہیں کر سکے گا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ بی ایس ایف کے جوان انتہائی سخت موسمی اور جغرافیائی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں اور جب جوان نہیں تھکتے تو دوسروں کو بھی تھکنے کا حق نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس ایف نے گزشتہ 60 برسوں سے ملک کی دو انتہائی مشکل سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری نبھائی ہے ۔