سرکاری اداروں میں مسلم نمائندگی میں اضافہ کا چیف منسٹر کا تیقن

   

کے ٹی آر اور ہریش راؤ سے اجلاس کرنے اکبر اویسی کو مشورہ، ہر شعبہ میں نمائندگی ملے گی
حیدرآباد۔/12 فروری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے سرکاری اداروں میں مسلمانوں کو نمائندگی کا تیقن دیتے ہوئے مجلس کے فلور لیڈر اکبر اویسی کو مشورہ دیا کہ وہ وزراء کے ٹی آر و ہریش راؤ کے ساتھ اجلاس منعقد کرکے سرکاری اداروں میں نمائندگی کے مسئلہ کی یکسوئی کریں۔ چیف منسٹر نے تصرف بل پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو ہر شعبہ حیات میں نمائندگی ملنی چاہیئے اور اسی گلدستہ کا نام تلنگانہ ہے۔ انہوں نے اکبر اویسی سے کہا کہ کے ٹی آر و ہریش راؤ سے اس پر بات کریں اور اس پر سب کمیٹی موجود ہے۔ ہر شعبہ میں مسلمانوں کی نمائندگی میں اضافہ کیلئے قدم اٹھائیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بہت جلد سرکاری اداروں میں مسلم نمائندگی کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔ قبل ازیں مباحث میں حصہ لیتے ہوئے اکبر اویسی نے چیف منسٹر کی توجہ سرکاری اداروں میں اقلیتی نمائندگی میں کمی کی جانب مبذول کرائی۔ انہوں نے سرکاری زبان کمیشن میں اردو نمائندہ کی شمولیت کا مطالبہ کیا تاکہ دوسری سرکاری زبان کے طور پر اردو پر عمل ہوسکے۔ انہوں نے تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن میں مسلم نمائندہ کی شمولیت کا مطالبہ کیا اور کہا کہ سابقہ کمیشن میں نمائندگی موجود تھی لیکن اس مرتبہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اردو سے انصاف کی ضرورت ہے۔ سرکاری دفاتر کے سائن بورڈز، آر ٹی سی بسوں، ریوینیو دفاتر اور کلکٹریٹس میں اردو کا استعمال ہونا چاہیئے۔ اکبر اویسی نے کونسل فار ہائیر ایجوکیشن کے نائب صدورنشین کے دو عہدوں میں سے ایک پر مسلم نمائندگی اور کونسل ارکان میں ایک مسلم رکن کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے تلنگانہ اقلیتی کمیشن کی تشکیل و اردو اکیڈیمی و اقلیتی فینانس کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائرکٹرس کی تشکیل پر حکومت کی توجہ مبذول کرائی۔ر