سرکاری اسکولوں میں داخلوں کے رجحان میں خاطر خواہ اضافہ نہیں

   

1366 اسکولوں میں صفر داخلے، انگریزی میڈیم میں تبدیلی کے باوجود ماہر اساتذہ کی کمی
حیدرآباد۔/7مارچ، ( سیاست نیوز) سرکاری اسکولوں میں انفرااسٹرکچر بہتر بنانے سے متعلق حکومت کے فیصلہ کے بعد خانگی اسکولوں سے طلبہ کے سرکاری اسکولوں میں منتقلی کے حکومت کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ تعلیمی سال 2022-23 میں 1366 سرکاری اسکولوں میں داخلے صفر رہے۔ محکمہ تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق حکومت کے کئی ہائی اسکولس میں طلبہ کے داخلے توقع کے مطابق نہیں رہے۔ 2021-22 میں سرکاری اسکولوں میں تقریباً 3 لاکھ نئے داخلے درج کئے گئے تھے جبکہ 2022-23 میں یہ تعداد گھٹ کر تقریباً ایک لاکھ درج کی گئی۔ حکومت نے جاریہ تعلیمی سال سے تمام سرکاری اسکولوں میں انگلش میڈیم تعلیم متعارف کی ہے جس کے بعد حکومت نے بنیادی انفرااسٹرکچر کیلئے 1200 کروڑ روپئے مختص کئے تھے۔ حکومت کی جانب سے مسلسل یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں داخلہ کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے جبکہ سرکاری اعداد و شمار مختلف ہیں۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کی جانب سے انگلش میڈیم تعلیم کی فراہمی میں مہارت کی کمی کے نتیجہ میں بہتر نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کو اس بات کا اعتراف ہے کہ خانگی اسکولوں کے مقابلے سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کی قابلیت میں کمی ہے جس کے نتیجہ میں طلبہ دوبارہ خانگی اسکولوں کو ترجیح دینے پر مجبور ہیں۔ عہدیداروں نے کہا کہ خانگی اسکولوں میں ٹیچرس کی تعداد بھی زیادہ ہوتی ہے اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا بہتر انتظام ہے۔ حکومت نے تمام سرکاری اسکولوں کو انگلش میڈیم میں تبدیل کرنے کا یکا یک فیصلہ کرلیا لیکن ٹیچرس کو ضروری ٹریننگ نہیں دی جاسکی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انگریزی پر عبور کے بغیر کسی بھی ٹیچر کو انگلش میں تعلیم دینا آسان نہیں ہے۔ اسی دوران سکریٹری محکمہ تعلیم وی کرونا نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں جہاں داخلے صفر رہے اس کی اہم وجہ جگہ کی کمی ہے۔ خانگی اسکولوں میں زائد کلاس رومس دستیاب رہتے ہیں۔ تلنگانہ میں حالیہ برسوں میں خانگی اسکولوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ر