ملک کے 91 فیصد اسکولس کو برقیانے کا عمل مکمل، قومی سطح پر تعلیمی اصلاحات کا آغاز
حیدرآباد ۔5 ۔ جون (سیاست نیوز) سرکاری سطح پر تعلیمی اداروں میں انفراسٹرکچر سہولتوں کو توسیع دینے کے لئے حکومتوں نے اسکولوںکو برقی سے مربوط کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ عصری تعلیمی تقاضوںکی تکمیل کے لئے ڈیجیٹل لرننگ اور اسمارٹ کلاس رومس کے قیام کا آغاز کیا گیا۔ ہندوستان میں اسکول انفراسٹرکچر کے استحکام کے ذریعہ سرکاری سطح پر طلبہ کو معیاری تعلیم کے انتظامات کئے جارہے ہیں۔ عصری سہولتوں سے استفادہ کیلئے اسکولوں میں برقی کی سربراہی ضروری ہے۔ سرکاری اسکولوں کو برقی سربراہی کے ذریعہ ملک بھر میں 91 فیصد اسکولوں کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ کئی ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں برقی سربراہی کے رجحان میں اضافہ ہوا اور سرکاری اسکولوں میں خانگی اسکولوں کی طرز پر معیاری تعلیم کا انتظام کیا جارہا ہے۔ ہریانہ ملک کی واحد ریاست ہے جہاں صد فیصد اسکولوں کو برقی کنکشن سے مربوط کردیا گیا ہے۔ 90 تا 99 فیصد اسکولوں میں برقی سربراہی کی تکمیل کرنے والی ریاستوں میں گجرات ، پنجاب ، ہماچل پردیش ، کرناٹک ، آندھراپردیش ، ٹاملناڈو ، تلنگانہ ، اڈیشہ ، مغربی بنگال ، بہار اور سکم شامل ہیں۔ قومی اور ریاستی سطح پر تعلیمی شعبہ میں اصلاحات کا سرکاری سطح پر آغاز ہوا ہے۔ تعلیمی اصلاحات کے لئے علحدہ کمیشن تشکیل دیا گیا تاکہ کارپوریٹ سطح پر دی جانے والی تعلیم کو سرکاری اسکولوں میں متعارف کیا جاسکے۔ ملک میں آج بھی 9 فیصد اسکول سرکاری سطح پر ایسے ہیں جہاں مکمل طور پر برقی سربراہ نہیں کی گئی ہے۔ خواندگی کی شرح میں اضافہ کیلئے حکومتوں نے برقی کنکشن کی فراہمی کو اولین ترجیح دی ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ آئندہ چند برسوں میں سرکاری سطح پر ڈیجیٹل لرننگ اور اسمارٹ کلاس رومس کو متعارف کیا جائے گا۔1/k/m/b