بودھن ۔ 14 جون (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) طلبہ تنظیموں کی مشترکہ ایکشن کمیٹی (جے اے سی) کے زیرِ اہتمام بودھن کے پی آر ٹی یو بھون میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا ، جس میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے پیشِ نظر سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں طلبہ کو درپیش مسائل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر طلبہ تنظیم کے قائدین نے زور دیا۔اس موقع پر جے اے سی قائدین این، بال راج اور ایم ڈی محسن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں طلبہ کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے درسی کتابیں اور اسکولی یونیفارم کی فراہمی کو یقینی بنانے موثر انتظامات کرنے کی خواہش کی اور طلبہ کی تعداد کے مطابق اساتذہ کی خالی آسامیوں کو فوری طور پر پْر کیا جائے۔قائدین نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو بنیادی سہولیات جیسے بیت الخلاء، صاف پینے کے پانی اور دوپہر کو معیاری کھانے (مڈ ڈے میل) کا انتظام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے محکمہ تعلیم کے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ان تمام امور کی مستقل نگرانی کریں تاکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول میسر ہوسکے۔انہوں نے نجی تعلیمی اداروں کی انتظامیہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ طلبہ کے لیے تمام ضروری بنیادی سہولیات فراہم کریں اور تدریسی عمل کو اہل اور تجربہ کار اساتذہ کے ذریعے انجام دیں۔ مزید یہ کہ ہر جماعت کے لیے مناسب اور مقررہ فیس ہی وصول کی جائے اور والدین پر غیر ضروری مالی بوجھ نہ ڈالے جانے کا مطالبہ کیا گیا۔جے اے سی قائدین نے محکمہ تعلیم سے مطالبہ کیا کہ تمام نجی تعلیمی اداروں کی باقاعدہ نگرانی کی جائے اور اسکول انتظامیہ کو درسی کتابوں، یونیفارم اور جوتوں کی فروخت جیسے تجارتی معاملات میں ملوث ہونے سے روکا جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کو جہاں کہیں بھی مسائل درپیش ہوں گے، طلبہ تنظیمیں ان کی یکسوئی کے لیے ہر سطح پر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔پریس کانفرنس میں بودھن طلبہ تنظیموں کی جے اے سی کے رہنما تلاری سنجے، ڈی،کرن، راجنا ،موہن، پرشانت اور راجو بھی موجود تھے۔