بغداد ۔ 12 ستمبر (ایجنسیز) عراقی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب کی اہم تیل پائپ لائن پر حملے عراقی سرزمین سے ہوئے۔ ایران جنگ سمیت مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر سے اہم خبریں یہاں دیکھئے۔ عراقی حکومت نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی اہم تیل پائپ لائن کو نشانہ بنانے والے حملے عراق کے صوبہ میسان سے کیے گئے تھے۔ بغداد نے واقعہ کی مزید تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے متعلقہ فوجی کمانڈر کو عہدہ سے ہٹا دیا ہے۔ عراقی وزیر اعظم علی الزیدی نے صوبہ میسان کی آپریشنز کمانڈ کے خلاف تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے۔ عراقی حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ سعودی عرب کو نشانہ بنانے والی کارروائیاں اسی صوبہ میں موجود ایک مقام سے کی گئی تھیں۔ سعودی عرب نے جمعہ کو ملک کے مشرق سے مغرب تک تیل پہنچانے والی اہم ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو احتیاطی اقدام کے طور پر بند کر دیا تھا۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق پائپ لائن کو نشانہ بنانے والے متعدد ڈرون عراق کی جانب سے آئے تھے۔ ریاض نے کہا ہے کہ وہ فوری جوابی کارروائی نہیں کرے گا تاکہ عراقی حکومت کو ضروری اقدامات کا موقع دیا جا سکے۔ ایران جنگ کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت متاثر ہونے کے باعث یہ پائپ لائن سعودی تیل کی برآمدات کے لیے مزید اہم ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد پائپ لائن کے دوسرے سرے پر واقع بحیرہ احمر کی بندرگاہ سے سعودی تیل کی برآمدات دوگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی حمایت یافتہ عراقی مسلح گروہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد عراق کے اندر اور باہر امریکی مفادات سے منسلک اہداف کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔
ان گروہوں نے سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں میں یمن کے حوثی باغیوں کے ساتھ بھی رابطہ کیا ہے۔ اسی دوران عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمت ایک مرتبہ پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے یمن کے اہم بندرگاہی شہر مخا پر قبضے سے بحیرہ احمر میں جہاز رانی مزید متاثر اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ حوثیوں نے ایک اہم جزیرے پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ دوسری جانب عراق نے ایران کے ساتھ دو اہم سرحدی گزرگاہیں شلمچہ اور چذابہ غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ان راستوں سے مسافروں اور تجارتی سامان کی آمدورفت مکمل طور پر روک دی گئی ہے۔