ڈاکٹر اوصاف سعید
دنیا بالخصوص عالم اسلام کی ساری توجہ فی الوقت سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان جاری محاذ آرائی پر مرکوز ہوکر رہ گئی ہے اور اس ضمن میں کئی ایک سوالات ابھر رہے ہیں۔ یہ پیچیدہ مسئلہ ہے جس نے علاقہ میں ایک نئی محاذ آرائی کو جنم دیا ہے۔ ہم یہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان دوبارہ شروع ہوئی محاذ آرائی اب یمن کی طویل جنگ کا محض ایک اور باب نہیں رہی بلکہ یہ ایسے وقت سعودی عرب کی اپنی صلاحیتوں کی ایک آزمائش بن گئی ہے باالفاظ دیگر یہ ایسے وقت سعودی عرب کی اپنی سرزمین یا اس کی علاقائی سالمیت، توانائی کی بنیادی سہولتوں بحری مفادات کے تحفظ کی صلاحیت کا امتحان لے رہی ہے جب انتہائی اہم سمجھے جانے والی آبی گذر گاہ آبنائے ہرمز شدید متاثر ہوئی ہے اور ریاستہائے متحدہ امریکہ ایک اور عسکری محاذ کھولنے سے گریز اں نظر آتا ہے۔ ریاض کے ردعمل سے ایک اہم بنیادی تبدیلی کا پتہ چلا ہے وہ پوری طرح واشنگٹن پر انحصار کرنے کی بجائے سیکوریٹی کی ذمہ داریاں تقسیم کرنے کے لئے شراکت داروں کا ایک وسیع تر نیٹ ورک تشکیل دے رہا ہے۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سعودی عرب سیکوریٹی کی ذمہ داریاں اپنے کن شراکت داروں میں بانٹ رہا ہے یا شیر کررہا ہے؟ اس بارے میں ہم آپ کو آگے کی سطور میں بتائیں گے۔ سعودی عرب اور حوثیوں کی محاذ آرائی سے جو ہنگامی صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ قابل فہم ہے۔ حوثیوں نے یمن کے بحرہ احمر (Red Sea) کے ساحل اور باب المندب کے اطراف و اکناف اپنی کارروائیوں کو وسعت دی ہے جس سے حوثویوں کی سعودی عرب کے اندر گہرائی تک حملے کرنے کی صلاحیت ظاہر ہوتی ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ 24-25 ستمبر کو سعودی فورسس نے اس امر کا دعویٰ کیا کہ ان لوگوں نے پنبع اور طائف کو نشانہ بناکر داغے گئے 6 بالسٹک میزائلوں کا پتہ چلا کر انہیں روک دیا جبکہ باب المندب کے اہم اور بلند مقام پر کنٹرول کے لئے شدید لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس لڑائی کے بارے میں جو رپورٹس منظر عام پر آتی ہیں ان میں حوثیوں اور سرکاری فورسس کے درمیان لڑائی میں 24 گھنٹوں کے درمیان مجموعی ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 150 بتائی گئی ہے۔ یہ ایسی صورتحال ہے جس سے دو چوک پوائنس کا خطرناک مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ ایران سے تنازعہ کے نتیجہ میں آبنائے ہرمز بہت زیادہ محدود ہوگئی ہے۔ اس کے بعد سعودی عرب کو خلیج کی جانب واقع اپنے خام تیل کے ذخائر سے خام تیل پنبع تک پہچانے کے لئے اپنی مشرقی مغربی پائپ پر زیادہ انحصار کرنا پڑا۔ واضح رہے کہ 11 ستمبر کے ڈرون حملہ کے بعد تین پمپنگ اسٹیشنوں کو نقصان پہنچا جس کے باعث تخفیف گنجائش کے ساتھ دوبارہ شروع ہوئی۔ ڈرون حملہ سے جو نقصان ہوا اس کے نتیجہ میں بتایا جاتا ہے کہ یومیہ سات ملین بیارل تیل کی نکاسی سے متعلق مکمل گنجائش کی بحالی کے لئے 6 تا 8 ہفتے لگ سکتے ہیں۔
اس طرح پنبع صرف سعودی عرب کا ایک اور توانائی کا مرکز نہیں رہا بلکہ آبنائے ہرمز سے نکلنے کا ایک اہم متبادل بن گیا ہے۔ یہ ایسی بات ہے جو فرانس کی تازہ ترین مداخلت کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ فرانسیسی صدر ابمانول مائکرون نے اعلان کیا ہے کہ پنبع کے تحفظ کے لئے ان کا ملک اپنے سپاہی، ریڈارس اور دفاعی نظام (defence systems) بھیجے گا۔ مسٹر مائکرون نے اس مشن کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے اس کا مطلب یہ کہ تنازعہ میں راست شامل ہونے کی بجائے اس مقام کا تحفظ کرنا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے مزید امداد کے امکانات کو بھی کھلا رکھا ہے۔ اس تعیناتی کے نتیجہ میں فرانسیسی فورسس، جنگی سازوں سامان (آلات حربی) سعودی عرب کی سرزمین پر موجود رہیں گے تاکہ ایسے بنیادی ڈھانچے کو بالکل محفوظ بنایا جاسکے جس کی سرگرم فعالیت یا کام کرنے کی عالمی توانائی کی سیکوریٹی کے حوالے سے کافی اہمیت حاصل ہوچکی ہے۔ اگرچہ اس معاملہ میں برطانیہ کا کردار محدود ہے لیکن ہنوز کافی اہمیت کا حامل ہے۔ لندن نے Operational Assistance بشمول فضاء سے فضاء میں ری نیولنگ سپورٹ فراہم کی ہے جبکہ برطانیہ نے اس بحران کو بحری جہازوں کی بلارکاوٹ آمد و رفت کے وسیع تر مسئلہ سے جوڑا ہے۔ اسی طرح اٹلی کا تعاون علاقائی سرزمین کی بجائے بحری نوعیت کا ہے۔ یوروپی یونین کی دفاعی کارروائی Aspides کے ذریعہ اطالوی بحریہ نے باب المند کے راستے تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لئے دستہ فراہم کیاہے۔ G-7 نے یمن میں ہونے والی تبدیلیوں کو باضابطہ علاقائی استحکام، عالمی توانائی کی سیکوریٹی اور بحرہ احمر کے ساتھ ساتھ باب المندب میں جہاز رانی کے حقوق کے لئے خطرہ قرار دیا ہے۔ ان تمام سے دلچسپ بات سعودی عرب۔ پاکستان۔ ترکیہ کا ابھرتا ہوا دفاعی اتحاد ہے۔ فی الوقت سعودی عرب پاکستان اور ترکیہ پر مشتمل یہ تکونی اتحاد موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ آپ کو بتادیں کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پر 7 اگست کو دستخط ہوئے اس دفاعی معاہدہ میں ایسی زبان استعمال کی گئی جو نیٹو کی دفعہ 5 میں استعمال کی گئی زبان و بیان سے کافی مماثلت رکھتی ہے۔ مطلب اس میں یہ کہا گیا کہ تینوں ملکوں میں سے کسی ایک ملک پرحملہ تینوں ملکوں پر حملہ تصور کیا جائے گا لیکن ابتداء میں واضح سوال یہ تھا کہ کیا یہ صرف اور صرف سیاسی طور پر حملہ روکنے کی کوشش ہے، حکمت عملی ہے یا واقعی قابل عمل فوجی عزم و ارادہ بھی ہے۔ اب یہ فرق بتدریج گھٹتا جارہا ہے۔ تینوں ملکوں نے 31 اگست کو ایک اسٹریٹیجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی تشکیل دی ساتھ ہی سعودی عرب میں ایک مستقل دفتریا سکریٹریٹ قائم کرنے سے بھی اتفاق کیا۔ ابتداء میں اس کی قیادت ایک پاکستانی سکریٹری جنرل کرے گا۔ ان ملکوں نے خود کو دفاعی، صنعتی تعاون و اشتراک، مشترکہ طور پر ٹکنالوجی کے فروغ اور اپنی مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کا بھی عزم کیا۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جاریہ ہفتہ نیویارک میں سعودی عرب پاکستان اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کے درمیان مشاورت کے بعد تینوں ممالک کے چیف آف اسٹاف کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں مکہ دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کی تائید و حمایت کے طریقوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت سعودی عرب کے حق Self Defence کا بھی اعادہ کیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مکہ دفاعی معاہدہ ابھی سے کوئی اسلامی نیٹو بن گیا ہے، فی الحال کوئی ایسا عوامی طور پر قائم شدہ مشترکہ کمان نظام، مستقل ہمہ ملکی فوج یا خود کار فوجی ردعمل کا طریقہ کار موجود نہیں جو نیٹو کے اجتماعی دفاعی نظام سے مماثلت رکھتا ہو۔ اس کے علاوہ پاکستان اور نہ ہی ترکیہ نے حوثیوں کے خلاف یمن میں جارحانہ کارروائیوں کے لئے اپنی فورسس بھیجنے کا سرکاری طور پر برسر عام کوئی عہد کیا ہے۔ یہ فرق خاص طور پر پاکستان کے لئے اہم ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ دفاعی تعلقات ہیں اسے اپنے پڑوسی ملک ایران کے ساتھ بھی تعلقات برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ یمن کی داخلی جنگ میں الجھنے سے بھی گریز کرنا ہے۔ اسی طرح ترکیہ کے پاس بھی سعودی عرب کی علاقائی سلامتی اور بحری جہاز رانی کی آزادی کی تائید و حمایت کرنے کی معقول اور مضبوط وجوہات ہیں لیکن مشرق وسطیٰ کے خطہ میں وہ ایک اور غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والی جنگ کی ذمہ داری قبول کرنا نہیں چاہتا۔