بیجنگ: چینی ماہرین نے سمندری پانی سے ہائیڈروجن اور لیتھیئم الگ کرنے والا ایک جدید نظام بنایا ہے جس کی کامیاب آزمائش کی گئی ہے۔نینجیانگ ٹیک یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک جدید الیکٹرولائزر بنایا ہے جو میٹھے پانی کی بجائے کھارے پانی سے ہائیڈروجن اور لیتھیئم الگ کرسکتا ہے۔ اس سیقبل میٹھا پانی ہی اس کام کے لیے درکار تھا اور بہت توانائی صرف ہوتی تھی۔ ہفت روزہ نیچر میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق میں جو برقیرے (الیکٹرولائٹ) استعمال ہوئے ہیں وہ مرتکز پوٹاشیئم ہائیڈروآکسائیڈ پرمشتمل ہیں۔ جنریٹر جیسے اس نظام میں کھارے پانی اور خود الیکٹرولائٹ والے حصے میں بخارات کے دباؤ میں فرق آتا ہے اور یوں سمندری پانی گیس میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔