ممبئی : ممبئی کی ایک میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ عدالت نے جمعرات کو بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ کریٹ سومیا کی اہلیہ ڈاکٹر میدھا سومیا کے ذریعہ دائر ہتک عزتی کے مقدمہ میں شیو سینا (یو بی ٹی) کے راجیہ سبھارکن سنجے راؤت کو قصوروار قرار دیا ہے۔ عدالت نے راؤت کو 15 دنوں کی جیل کی سزا سنائی ہے ساتھ ہی 25 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے جو ان سے معاوضہ کے طور پر وصول کیا جائے گا۔ ممبئی کی روئیا کالج میں آرگینک کیمسٹری کی پروفیسر میدھا سومیا نے راؤت کے خلاف ہتک عزت کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ واضح ہو کہ سنجے راؤت نے ان پر اور ان کے این جی او ‘یوا پرتشٹھان’ پر 100 کروڑ روپے کے بیت الخلا گھوٹالے کا الزام لگایا تھا۔ سنجے راؤت کے وکیل اور ان کے بھائی سنیل راؤت نے کہا کہ انہوں نے ضمانت کی عرضی داخل کی ہے اور مجسٹریٹ عدالت کے حکم کے خلاف سیشن کورٹ میں اپیل کریں گے۔ وہیں راؤت کے وکیل کی درخواست پر مجسٹریٹ عدالت نے سنجے راؤت کی سزا 30 دنوں کے لیے معطل کر دی ہے۔ کارروائیوں کی تکمیل کرنے اور 15000 کا مچلکہ بھرنے کے بعد راؤت عدالت سے باہرہونگے۔ سنجے راؤت نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میں عدالت کے فیصلے کی عزت کرتا ہوں لیکن یقین نہیں کر سکتا کہ انہوں نے ایسا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں انصاف کی امید کیسے کر سکتے ہیں جہاں وزیر اعظم گنیش اْتسو کیلئے چیف جسٹس آف انڈیا کے گھر جاتے ہیں اور لڈو کھاتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ سومیا کے ذریعہ وکیل وویکانند گپتا کے توسط سے درج شکایت میں کہا گیا ہے کہ 15 اپریل 2022 اور اس کے بعد سنجے راؤت نے ان کے خلاف میڈیا میں بدنیتی پر مبنی اور غیر مناسب بیان دیے۔ ان بیانات کو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعہ بڑے پیمانے پر عام لوگوں کے لیے شائع اور نشر کیا گیاجس سے ان کی شبیہ خراب ہوئی۔الزامات پر بی جے پی رہنما کریٹ سومیا نے اس وقت کہا تھا کہ اگر سنجے راؤت اس گھوٹالے کے سلسلے میں کوئی ثبوت دیں گے تو ہی وہ اس کا جواب دیں گے۔