بگڑتی صحت پر تشویش کا اظہار‘ 20 دن سے بھوک ہڑتال جاری، وزیر تعلیم سے استعفیٰ کا مطالبہ
نئی دہلی ۔17؍جولائی ( ایجنسیز )نیٹ پیپر لیک معاملہ پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے گزشتہ 20 دنوں سے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی غیر معینہ بھوک ہڑتال جنتر منتر پر جاری ہے۔ آج ان سے کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے ملاقات کی۔ یہ پہلی بار ہے جب سونم وانگچک سے ملاقات کے لیے کانگریس کا کوئی بڑا لیڈر جنتر منتر پہنچا ہے۔ اس ملاقات کے دوران پون کھیڑا نے سونم وانگچک کے مطالبات پر کانگریس کی حمایت کا اظہار کیا۔اس ملاقات کے بعد پون کھیڑا نے مودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ہم سب سونم وانگچک کی صحت کو لے کر فکرمند ہیں۔ ہم سب ایک انتہائی غیر حساس حکومت سے لڑ رہے ہیں جو جمہوری زبان نہیں سمجھتی۔ ایسی حکومت کے سامنے احتجاج کا طریقہ بدلتے رہنا چاہیے۔ اس حکومت کے خلاف اپنی جان خطرے میں ڈالنے سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ دراصل سونم وانگچک کی طبیعت دن بہ دن بگڑتی جا رہی ہے اور ڈاکٹروں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ وہ بھوک ہڑتال ختم نہیں کریں گے تو کچھ جسمانی اعضا فیلیور ہو سکتے ہیں۔سونم وانگچک سے ملنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ ہم ’چھاتروں کی گونج‘ نام سے ایک مہم چلا رہے ہیں۔ ہمارے لوگ سڑکوں، کیمپس اور ہر جگہ اس مسئلے کو فعال طور پر اٹھا رہے ہیں۔ ہم صرف دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ لوک سبھا میں راہول گاندھی مستقل طور پر طلبا کے اہم ایشوز کو اٹھا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ سونم وانگچک کی جان کو لاحق خطرہ کے بعد سماجوادی پارٹی اور عام آدمی پارٹی سمیت کئی سیاسی پارٹیوں کے لیڈران نے اپنے بیان میں مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ اب کانگریس لیڈر پون کھیڑا کی سونم سے ملاقات کئی معنوں میں اہم تصور کی جا رہی ہے۔ گزشتہ 3 ہفتوں میں شیوسینا یو بی ٹی، ترنمول کانگریس، سی پی آئی، سی پی ا?ٓئی-ایم ایل اور آر جے ڈی لیڈران کی طرف سے بھی وانگچک کی حمایت میں بیانات آ چکے ہیں۔