غرض کہ کاٹ دیئے زندگی کے دن اے دوست
وہ تیری یاد میں ہوں یا تجھے بھلانے میں
ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے ایک اہم رولنگ کے ذریعہ ملک کے کروڑہا عوام کو بڑی راحت دی ہے ۔ سپریم کورٹ نے واضح کردیا کہ ووٹر لسٹ میں نام شامل نہ رہنے کا مطلب شہریت سے محرومی نہیں ہے اور الیکشن کمیشن کو کسی کی بھی شہریت پر کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے ۔ اس تعلق سے کوئی بھی فیصلہ کرنے کا اختیار صرف حکومت کو حاصل ہے اور الیکشن کمیشن اس تعلق سے کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا ۔ سپریم کورٹ کی اس رولنگ سے ملک کے کروڑہا افراد کو بڑی راحت نصیب ہوئی ہے کیونکہ کئی گوشوں سے ان اندیشوں کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ کسی بھی وجہ سے اگر کسی شہری کا نام ووٹر لسٹ میںشامل نہیں ہوتاہے تو اسے شہریت سے محرومی کا اندیشہ لاحق ہوسکتا ہے ۔ ایک ایسی صورتحال میں جبکہ یہ اندیشے بھی ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ ایس آئی آر در اصل این آر سی کی بدلی ہوئی شکل ہے تو یہ اندیشے فطری بات تھے کہ ووٹر لسٹ سے نام حذف ہونے سے شہریت کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔ تاہم سپریم کورٹ نے جو رولنگ دی ہے اس میں یہ واضح کردیا گیا ہے کہ ووٹر لسٹ میں نام نہ ہونا شہریت سے محرومی نہیں ہوسکتا ۔ ووٹر لسٹ سے نام کا حذف ہونا بجائے خود شہریت سے محرومی نہیں ہوسکتا اور اس تعلق سے الیکشن کمیشن خود کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا ۔ عدالت نے واضح کردیا کہ بہار ایس آئی آر کے مسئلہ پر ہی یہ واضح کیا جاچکا ہے کہ الیکشن کمیشن شہریت پر کسی طرح کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا ۔ یہ وضاحت اس لئے بھی راحت کا سامان ہے کیونکہ ملک میں کروڑوں افراد مختلف ریاستوں میں ووٹر لسٹ میں اپنا نام شامل کروانے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ ان کی اپیلیں ملک کی مختلف عدالتوں میں زیر تصفیہ ہیں ۔ لاکھوں افراد اس مسئلہ پر عدالتوں سے رجوع ہوچکے ہیں جبکہ ابھی صرف چند ہزار اپیلوں پر ہی فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس طرح لاکھوں افراد کا مسئلہ عدالت میں زیر تصفیہ ہے اور جو اندیشے ظاہر کئے جا رہے تھے وہ اب ختم ہوگئے ہیں ۔ اس کے نتیجہ میں کروڑہا افراد کو ذہنی سکون اور راحت نصیب ہوئی ہے ۔
ملک کی کئی ریاستوں میں کروڑ وں افراد کے نام ووٹر لسٹ سے خارج ہوچکے ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں دو کروڑ سے زائد نام ووٹر لسٹ سے حذف ہوئے ہیں۔ بہار میں حذف ہونئے ناموں کی تعداد بھی بے تحاشہ ہے ۔ اسی طرح کئی ریاستوں میں اجتماعی طور پر کروڑوں افراد کے نام خارج ہوئے ہیں اور مزید کئی ریاستوں میں ایس آئی آر کا عمل چل رہا ہے ۔ یہاں بھی بے شمار افراد کے نام حذف ہونے کے اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال میں اگر شہریت کے تعلق سے اندیشے برقرار رہتے تو پھر یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہوسکتا تھا ۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ مقامات پر چند گنے چنے افراد بیرون ملک سے آئے ہوں اور انہوں نے اپنے کچھ شناحتی دستاویزات دھوکے سے تیار کرلئے ہوں لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں ہوسکتا کہ جو کروڑوں نام ووٹر لسٹوں سے خارج ہو رہے ہیں وہ ہندوستانی شہری نہیں ہیں۔ بے شمار افراد ایسے ہیں جن کے پاس کسی قسم کا دستاویز دستیاب نہیں ہے ۔ کسی کے پاس برتھ سرٹیفیکٹ نہیں ہے تو کسی کے پاس کوئی تعلیمی اسنادات نہیں ہیں۔ کسی کے پاس کوئی زمین جائیداد نہیں ہے تو کسی کے پاس کوئی اور کاغذ موجود نہیں ہے ۔ اس بنیاد پر کسی کو بیرونی شہری قرار نہیں دیا جاسکتا اور سپریم کورٹ کے فیصلے سے ایک بہت بڑی اور انتہائی اہمیت کی حامل وضاحت ہوگئی ہے ۔ اس فیصلے کو اب سب کو ذہن نشین رکھنا چاہئے ۔
ملک کی سب سے بڑی عدالت کے اس فیصلے سے کروڑہا افراد نے چین کی سانس لی ہے اور اب جو اپیلیں عدالتوں میں زیر تصفیہ ہیں ان کی سماعت میں بھی عوام کو راحت مل سکتی ہے ۔ شہریت کے تعلق سے فیصلہ کرنے کا جو اختیار حکومت کو حاصل ہے وہ کسی اور ادارہ کو نہیں ہے چاہے وہ خود مختار دستوری اتھاریٹی ہی کیوں نہ ہو ۔ جہاں تک ووٹر لسٹوں میں نام کی شمولیت کا مسئلہ ہے تو یہ بھی اہمیت کا حامل ہے اور اس تعلق سے بھی عوام کو راحت پہونچانے کے اقدامات مرکزی حکومت کو کرنے چاہئیں ۔
راہول گاندھی کا چھاتروں کی گونج پروگرام
قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے ملک کے نوجوانوں اور طلباء کو آواز دینے کیلئے چھاتروں کی گونج پروگرام کا آغاز کیا ہے ۔ وہ اپنے اس پروگرام کے ذریعہ ملک بھر میں نظام تعلیم میں پائی جانے والی خامیوں کو اجاگر کر رہے ہیں اور اس سے نوجوانوں اور طلباء کو پیش آنے والی مشکلات اور پریشانیوں کو ملک کے سامنے لا رہے ہیں۔ راہول گاندھی نے تعلیمی مرکز سمجھے جانے والے شہر کوٹا راجستھان سے اس کا آغاز کیا تھا اور پھر انہوں نے اس مسئلہ پر دہرہ دون کا رخ کیا ۔ انہوں نے دعو ی کیا کہ ملک میں سارا نظام تعلیم ہی بدعنوانیوں کا شکار ہے جس کے نتیجہ میں مسابقتی امتحانات کے پرچہ جات کی لاکھوں روپئے میں فروخت ہو رہی ہے اور یہ عام بات ہوگئی ہے ۔ راہول گاندھی کا یہ پروگرام در اصل ملک کے نوجوانوں اور طلباء کیلئے ایک اچھا پلیٹ فارم ہے جہاں طلباء اپنے مستقبل کے تعلق سے لاحق اندیشوں کو محسوس کرتے ہوئے جدوجہد کرسکتے ہیں۔ حکومتوں سے سوال کرسکتے ہیں اور نظام تعلیم میں بہتری اور تبدیلی لانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سماج کے دوسرے طبقات کو درپیش مسائل پر بھی راہول گاندھی جدوجہد کریں اور اسی طرح کے پلیٹ فارمس کے ذریعہ عوام تک رسائی حاصل کرنے کوشش کریں۔