کسی بھی کارروائی کیلئے ریاستی حکومت کی اجازت ضروری، مرکزی اداروں کی ہراسانی سے بچنے اہم کارروائی
حیدرآباد۔ /30 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے مرکز کی بی جے پی حکومت کے ساتھ ٹکراؤ کی صورتحال کے دوران ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں پر ریاست میں تحقیقات کیلئے دی گئی عام منظوری کو واپس لے لیا ہے جس کے نتیجہ میں تحقیقاتی ایجنسیوں کو کسی بھی کارروائی کیلئے ریاستی حکومت کی قبل از وقت اجازت حاصل کرنی ہوگی۔ دہلی اسپیشل پولیس اسٹابلشمینٹ کے تحت آنے والے تمام مرکزی تحقیقاتی اداروں کو تلنگانہ میں کسی بھی کارروائی کے سلسلہ میں سابق میں دی گئی منظوریوں کو واپس لینے کے فیصلہ سے بی جے پی کے ساتھ ٹی آر ایس حکومت کے ٹکراؤ میں مزید شدت کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ تلنگانہ حکومت نے وضاحت کی ہے کہ کسی بھی معاملہ میں تحقیقات کی اجازت ریاستی حکومت کیس کی بنیاد پر دے گی۔ حکومت کے اس فیصلہ کے نتیجہ میں تمام مرکزی تحقیقاتی اداروں بشمول سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن(سی بی آئی)، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی) اور انکم ٹیکس کو تلنگانہ میں کسی تحقیقات یا کارروائی کیلئے ریاستی حکومت کی قبل از وقت اجازت حاصل کرنی ہوگی۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے اس سلسلہ میں 30 اگسٹ کو جی او 31 جاری کیا۔ واضح رہے کہ حالیہ عرصہ میں چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ اور ان کے افراد خاندان کے علاوہ ٹی آر ایس کے اہم قائدین کے خلاف سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی کارروائیوں کی اطلاعات میڈیا میں گشت کررہی ہیں۔ جب سے ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان اختلافات میں شدت پیدا ہوئی برسراقتدار پارٹی کے قائدین کے خلاف مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کی کارروائیوں کا خطرہ بڑھ چکا ہے۔ حکومت نے اگرچہ مرکزی ایجنسیوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے 30 اگسٹ کو احکامات جاری کئے لیکن دو ماہ گذرنے کے بعد یہ معاملہ منظر عام پر آیا۔ لکر اسکام میں چیف منسٹر کی دختر کویتا کا نام لیا جارہا تھا اور اطلاعات کے مطابق مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں نے بعض قریبی افراد کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ شروع کی ہے۔ مغربی بنگال کی ممتا بنرجی حکومت نے بھی مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کی مداخلت کے سلسلہ میں اسی طرح کی پابندی عائد کی ہے۔ حکومت کے احکامات کے مطابق سی بی آئی ، انکم ٹیکس، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور دیگر تحقیقاتی ایجنسیوں کو کسی بھی معاملہ میں گرفتاریوں یا تحقیقات کیلئے ریاستی حکومت کی منظوری حاصل کرنی ہوگی۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کیسس کی نوعیت کی بنیاد پر مرکزی ایجنسیوں کو تحقیقات کی اجازت دے گی۔ کے سی آر حکومت کے اس فیصلہ سے تلنگانہ میں مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کا راستہ عملاً بند ہوچکا ہے اور وہ دیگر ریاستوں کی طرح از خود کارروائی نہیں کرسکتے۔ حکومت کے اس فیصلہ سے ٹی آر ایس قائدین نے اطمینان کی سانس لی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کے سی آر حکومت کے اس فیصلہ پر مرکزی حکومت اور اس کے تحقیقاتی ادارے کیا ردِ عمل ظاہر کریں گے اور کیسس کی تحقیقات کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔ر