سیاحت کیلئے تلنگانہ اور اے پی کے درمیان ’سی پلین‘ کی منصوبہ بندی

   

مرکزی وزارت شہری ہوا بازی کے منصوبہ پر عملی اقدامات کا آغاز، حسین ساگر کا جائزہ لیا گیا

حیدرآباد۔28۔ستمبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ اور آندھراپردیش کے درمیان مرکزی وزارت شہری ہوابازی ’’سی پلین‘‘ شروع کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ حسین ساگر سے Sea Plane کے آغاز کے منصوبہ کے سلسلہ میں عملی اقدامات کا آغاز کیا جاچکا ہے اور فضائی ماہرین نے شہر حیدرآباد کا دورہ کرتے ہوئے حسین ساگر میں ’سی پلین‘ کی لینڈنگ اور اڑان کے متعلق امکانات کا جائزہ لیا۔ ذرائع کے مطابق ریونت ریڈی نے مرکزی وزیر شہری ہوا بازی رام موہن نائیڈوکے ہمراہ چند ماہ قبل ہوئی بات چیت کے دوران حیدرآباد ۔ وجئے واڑہ کے درمیان ’’سمندری جہاز‘‘ کے آغاز کے ذریعہ ریاست میں سیاحت کے فروغ کو یقینی بنانے کے سلسلہ میں متوجہ کروایا تھا۔ حسین ساگر سے ’سی پلین‘ خدمات کے آغاز کے سلسلہ میں کوئی نیامنصوبہ نہیں ہے لیکن مرکزی حکومت کی وزارت شہری ہوا بازی نے حسین ساگر سے ناگرجنا ساگر اور پرکاشم بیاریج کے درمیان ’سی پلین‘ چلانے کے سلسلہ میں پیشرفت نہیں کی لیکن اب کہا جارہاہے کہ ناگر جناساگر کے علاوہ پرکاشم بیاریج کے درمیان حسین ساگر سے ’سی پلین ‘ خدمات کے آغاز کی تیاریوں کو تیز کردیا گیا ہے ۔ مرکزی حکومت نے پڑوسی ریاست آندھراپردیش میں سی پلین کے آغاز کے لئے 600 کروڑ روپئے کی منظوری کا اعلان کیا ہے اور چیف منسٹر آندھراپردیش این چندرا بابونائیڈو نے اے پی میں ’سی پلین‘ کی تجرباتی اڑان میں حصہ لیتے ہوئے ریاست میں سیاحت کے فروغ کے لئے ان خدمات کو وسعت دینے کا اعلان کیا تھا ۔ دونوں ریاستوں کے درمیان رابطہ میں بھی مستحکم ہونے لگ جائے گا۔ پرکاشم بیاریج تک کا سفر ماہرین کے مطابق حسین ساگر سے ’سی پلین‘ کے ذریعہ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں یہ سفر 45 منٹ میں مکمل کیا جاسکتا ہے۔ ’سی پلین‘ ہوائی جہاز کی طرح کے طیارے ہوتے ہیںلیکن ان کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ پانی پر لینڈ کرنے کے علاوہ پانی سے ہی اڑان بھرنے کے اہل ہوتے ہیں۔ان جہازوں کے لئے کسی ائیر پورٹ یا رن وے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ جہاز پانی پر لینڈ کرسکتے ہیں۔3/S/i
اور پانی کی سطح پر سے ہی تیز رفتار کے ساتھ اڑان بھرتے ہوئے ہوائی جہاز کی طرح سفر کرنے کے متحمل ہوتے ہیں۔3