ایک ہی ای۔ میل آئی ڈی سے کئی آئی ٹی ملازمین نے انکم ٹیکس داخل کیا، تحقیقات میں پردہ فاش
حیدرآباد۔ 12 فروری (سیاست نیوز) انکم ٹیکس سے استثنیٰ حاصل کرنے کیلئے زیادہ تر ملازمین مکان کا کرایہ ادا کرنے، بچوں کی اسکولس فیس ادا کرنے یا ان کے پاس ہاؤز لون اور انشورنس ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر چند آئی ٹی ملازمین سیاسی جماعتوں کو چندہ دینے کا دعویٰ کرتے ہوئے انکم ٹیکس کی بڑی چھوٹ حاصل کی ہے۔ غیررجسٹرڈ گمنام پارٹیوں کے قائدین سے کمیشن کی بات چیت کرتے ہوئے انہیں چندہ دیا اور پھر اپنی رقم واپس لے لی۔ انکم ٹیکس عہدیداروں کی تحقیقات میں اس اسکینڈل کا پردہ فاش ہوا ہے۔ آئی ٹی ریٹرنس کی جانچ کرنے والے عہدیداروں نے 36 کمپنیوں کے کئی آئی ٹی ملازمین کی جانب سے 110 کروڑ روپئے کی انکم ٹیکس چوری کرنے کی نشاندہی کی ہے۔ انکم ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 80 جی سی سی کا بیجا استعمال کرتے ہوئے جعلی ریٹرنس داخل کیا ہے۔ انکم ٹیکس عہدیداروں کی تحقیقات میں یہ بے قاعدگیاں منظر عام پر آئی آئیں۔ آئی ٹی ملازمین نے غیررجسٹرڈ پارٹیوں کو ڈونیشن دینے کا اپنے آئی ٹی ریٹرن میں اعلان کیا ہے۔ سالانہ 46 لاکھ روپئے تنخواہ حاصل کرنے والے ایک آئی ٹی ملازم نے غیررجسٹرڈ گمنام پارٹی کو 45 لاکھ روپئے کا چندہ دینے کا آئی ٹی ریٹرنس داخل کیا ہے۔ تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ گمنام پارٹی چیک یا بینک ٹرانسفر کی صورت میں چندہ وصول کررہی ہیں۔ اس میں اپنا تھوڑا کمیشن وصول کرتے ہوئے آئی ٹی ملازمین کو رقم واپس کررہی ہے۔ اس اسکینڈل کا پردہ اس وقت فاش ہوا جب حکام کو پتہ چلا کہ ایک ہی ای۔میل آئی ڈی کو کئی ریٹرن داخل کرنے کیلئے استعمال کیا گیا۔ اس طرح کے فراڈ گجرات اور تلنگانہ سے ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ آئی ٹی ملازمین کے دھوکہ دہی کے بعد محکمہ انکم ٹیکس کے عہدیداروں نے گزشتہ مالیاتی سال کے دوران کئے گئے آئی ٹی ریٹرن کی جانچ کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ سال 2021-22 ء تا 2023-24ء کے دوران فائل کئے گئے آئی ٹی ریٹرن کی جانچ کی جائے گی۔ اس کے لئے 31 مارچ تک مہلت مقرر کی گئی ہے۔ مذکورہ مدت کے دوران اپ ڈیٹ شدہ آئی ٹی اور داخل نہ کرنے پر 200% جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ ٹیکس میں چھوٹ ٹیکس کٹوتی ریٹ سورس (ٹی ڈی ایس ) کے ذریعہ دی جارہی ہے، لیکن ملازمین باہر سے آئی ٹی آر فائل کررہے ہیں۔ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ حیدرآباد کی ایک معروف کمپنی میں کام کرنے والے 430 آئی ٹی ملازمین نے محکمہ انکم ٹیکس سے تقریباً 17.8 کروڑ روپئے کا غبن کیا ہے اور ہر ایک کو اوسطاً 4.2 لاکھ روپئے تک فائدہ ہوا ہے مگر اس بات کا بھی پتہ چلا ہے کہ اس معاملے میں ملازمین نے کمپنی سے کسی بھی تعلق کے بغیر شخصی طور پر آئی ٹی ریٹرن فائل کیا ہے۔ 2