سیف الدین کے قتل مقدمہ میں پولیس کے کردار پر سوال

   

کولکتہ: مغربی بنگال اسمبلی میں آل انڈیا سیکولر فرنٹ کے واحد نمائندے نوشاد صدیق نے منگل کو جنوبی 24 پرگنہ کے جے نگر میں ترنمول کانگریس لیڈر سیف الدین لشکر کے قتل مقدمہ میں پولیس کے کردار پر سوال اٹھایا۔ پیر کو لشکر کا قتل اسی دن جوابی لنچنگ اور قتل عام کا باعث بنا۔ حکمران پارٹی کا ایک منتخب پنچایت ممبر جس طرح سے پہلے سے منصوبہ بند قتل کا شکار ہوا اور اس واقعہ کے نتیجے میں کس طرح جوابی لنچنگ اور قتل عام ہوا، یہ ناقابل تصور ہے۔ اس سے ریاست میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کا پتہ چلتا ہے۔ جب جوابی لنچنگ اور قتل عام ہو رہا تھا تو پولیس عہدیدار کیا کر رہے تھے؟ صدیقی نے آج شام میڈیا سے یہ سوال کیا۔ انہوں نے گزشتہ سال مارچ میں بیر بھوم ضلع کے بوگتوئی میں ہونے والے قتل عام کا بھی حوالہ دیا تھا جس میں نو لوگ مارے گئے تھے۔ بوگتوئی قتل عام کو ترنمول کانگریس کے مقامی لیڈر ودو شیخ کے قتل کے بدلے کے قتل کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ سی بی آئی نے بوگتوئی قتل عام کی تحقیقات شروع کیں لیکن کچھ گرفتاریوں کے بعد تفتیش میں زیادہ پیشرفت نہیں ہوئی۔