سینئر ماؤسٹ لیڈر وشواناتھ کی اہلیہ کے ساتھ خود سپردگی

   

تنظیم کو مشرقی خطہ میں بڑا جھٹکہ، تحریک روبہ زوال، ڈی جی پی کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔ 26 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس سی وی آنند کے روبرو منگل کو سینئر ماؤسٹ روپوش رہنما پاسونوری نراہری عرف وشواناتھ یا سلائی دا نے بیوی اور سینئر ماؤسٹ رہنما ایم دانمّا عرف لتا؍پونم کے ہمراہ خودسپردگی اختیار کی ۔ پولیس نے اس پیش رفت کو تنظیم کے مشرقی خطہ کے لیے بڑا جھٹکہ قرار دیا اور کہا کہ وہ اب تقریباً زوال کی سمت ہے۔ 64 سالہ پاسونوری نراہری، ہنمکنڈہ ضلع کے قازی پیٹ منڈل کے سومیڑی ولیج سے ہیں۔ اس سلسلہ میں ڈائرکٹر جنرل پولیس سی وی آنند نے پریس کانفرنس میں کہا کہ نراہری نے 1982 میں طالب علمی کے دوران ریڈیکل اسٹوڈنٹس یونین سے وابستگی کے بعد مومنٹ میں شمولیت اختیار کی۔ دہائیوں میں وہ ایک دلم رکن سے شروع کر کے کمانڈر، ریجنل کمیٹی ممبر، اسٹیٹ کمیٹی ممبر اور بالآخر 2017 میں سینٹرل کمیٹی کے رکن تک پہنچ گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نراہری نے چند ریاستوں جن میںچھتیس گڑھ، مہاراشٹر، بہار اور جھارکھنڈ شامل ہیں میں تنظیم کے تکنیکی آپریشنز کا ذمہ دار تھا ۔ اس کی بیوی 55 سالہ میدرا دانمّا جو آندھرا پردیش کے گنٹور ضلع کی رہنے والی ہے نے 1980 کی دہائی کے آخر میں تحریک میں شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں بہار، جھارکھنڈ اسپیشل ایریا کمیٹی کی اسٹیٹ کمیٹی کی رکن بن گئی۔تلنگانہ حکومت کی بحالی پالیسی کے تحت پولیس نے نراہری کو 25 لاکھ اور دانمّا کو 20 لاکھ روپے کے ڈیمانڈ ڈرافٹ حوالے کئے۔ پولیس عہدیدار نے کہا کہ دونوں کو ریاستی پالیسی کے تحت اضافی بحالی مراعات بھی دی جائیں گی۔ ڈی جی پی سی وی آنند کے مطابق فی الحال صرف تین سرگرم روپوش کارکن جو ریاست تلنگانہ کے باشندہ نہیں، اس کے باہر سرگرم ہیں، جن میں مرکزی کمیٹی رکن مپلا لکشمن راؤ عرف گنپتی اور اسٹیٹ کمیٹی کے ارکان رتنا بائی عرف سوجاتا اور ورتھا شیکھر عرف منگتھو شامل ہیں۔ ڈائرکٹر جنرل آف پولیس نے باقی روپوش کارکنان سے اپیل کی ہے کہ وہ خود کو قانون کے حوالے کر کے سماجی دھارے میں شامل ہو جائیں ۔ب F/