شمبھو بارڈر پر سخت حفاظتی انتظامات ، انٹرنیٹ خدمات معطل

   

چندی گڑھ : ہریانہ حکومت نے فصلوں اور دیگر مطالبات پر کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی ضمانت کے قانون کے لیے دہلی تک مارچ کرنے کی تیسری کوشش کے درمیان ہفتہ کو انبالا ضلع کے کچھ حصوں میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل کردیا اور پنجاب ہریانہ شمبھو بارڈر پر سیکورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے ۔ سنیکت کسان مورچہ (غیر سیاسی) اور کسان مزدور مورچہ نے اعلان کیا ہے کہ 101 کسانوں کا ایک گروپ ہفتہ کو دہلی کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کرے گا۔ پچھلے دس دنوں میں ہریانہ حکومت کسانوں کے دو گروپوں کو شمبھو بارڈر پر ہی روکنے میں کامیاب رہی ہے ۔ دہلی کی طرف ہفتہ کے مارچ کو روکنے کی کوشش میں انبالا پولیس انتظامیہ نے شمبھو بارڈر پر بنائی گئی عارضی دیوار کے اوپر آٹھ فٹ اونچی دیوار بنادی ہے ۔ تعیناتی بھی بڑھا دی گئی ہے ۔ دریں اثنا، کسان رہنما تیجویر سنگھ نے سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر جاری ایک ویڈیو میں الزام لگایا کہ مرکزی اور ہریانہ کی حکومتیں کسانوں میں پھوٹ ڈال کر پنجاب کے کسانوں کو الگ تھلگ کرنا چاہتی ہیں اور پنجاب میں ‘منی پور-سری لنکا-بنگلہ دیش’ جیسی صورتحال پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف امبالہ اور جند اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں نے جمعہ کو سنگرور کے ڈپٹی کمشنر کو خط لکھ کر 19 دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے جگجیت سنگھ ڈلیوال کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں طبی سہولیات فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔ دوسری طرف، اب امبالہ کے کچھ حصوں میں اسکول بند کرنے اور انٹرنیٹ خدمات معطل کرنے کے علاوہ، شمبھو بارڈر پر حفاظتی اقدامات بڑھا کر غیر ضروری کشیدگی پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سچائی یہ ہے کہ ہریانہ سمیت پورے ملک میں کسان تحریک کی حمایت کر رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ کسان تنظیمیں گزشتہ دس ماہ سے پنجاب-ہریانہ سرحدوں پر موجود ہیں۔ ایم ایس پی گارنٹی ایکٹ کے علاوہ ان کے مطالبات میں بارہ مطالبات شامل ہیں جن میں کسانوں اور کھیت مزدوروں کا قرض معاف کرنا، زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج کے دوران کسانوں کے خلاف درج مقدمات کو واپس لینا شامل ہے ۔