شہر میں قتل کی وارداتوں میں اضافہ باعث تشویش

   

l صبح گھر سے نکل کر شام گھر پہنچنا شہریوں کے لیے غیر یقینی ، لا اینڈ آرڈر پر سوالیہ نشان
l پرانے شہر میں مسلسل وارداتیں پولیس کے لیے چیالنج ، عوامی نمائندوں کی اپیلیں بے اثر
حیدرآباد ۔10 اکٹوبر (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں اب خواتین کے قتل کی وارداتیں عام ہوتی جارہی ہیں اور پولیس ہیکہ صرف دعوے اور دلیلوں تک محدود ہوگئی ہے! شہر حیدرآباد جو ایک محفوظ پرامن شہر کی شناخت رکھتا تھا اور ملک بھر میں پرسکون ماحول اور امن کیلئے اپنی شناخت بنا چکا تھا اب نہ جانے شہر کو کس کی نظر لگ گئی جو قاتلوں، قتل کی وارداتوں اور جرائم کیلئے مشہور ہوتا جارہا ہے۔ شہر میں پیش آرہی مسلسل قتل کی وارداتوں سے پریشان شہریان حیدرآباد اب اپنے تحفظ کیلئے فکرمند ہوگئے ہیں۔ صبح گھر سے نکل کر رات محفوظ اپنے گھر پہنچنا غیریقینی اور خوف کا موجب بنتا جارہا ہے۔ بااثر شخصیات اور امن پسند شہریوں کے دباؤ کے بعد عوامی نمائندوں کا زور بھی بے اثر ثابت ہورہا ہے۔ عوامی منتخب نمائندوں کی عوام سے اپیل اور پولیس پر دباؤ بے فیض ثابت ہورہا ہے اور پولیس ان حالات پر ایسے اقدامات کررہی ہے جیسا کہ پولیس کو کچھ معلوم ہی نہیں یا پھر سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود پولیس کچھ کرنا نہیں چاہتی۔ اب جبکہ عوامی نمائندے کھل کر پولیس کو سخت اقدامات کیلئے زور دے رہے ہیں۔ گلی کوچوں، عوامی اجلاسوں کے علاوہ ایوانوں میں بھی اقدامات کیلئے آواز اٹھائی جارہی ہے تو پھر آخر وجہ کیا ہیکہ شہر کا صرف جنوبی علاقہ ہی شدید متاثر ہے۔ شہر کے شمال، مشرق اور مغرب میں ایسے واقعات پیش نہیں آتے جبکہ مغربی علاقہ بھی کافی حساس نوعیت کا پایا جاتا ہے جبکہ شمال اور مشرق میں شاذ و نادر ہی ایسے واقعات سننے کو ملتے ہیں۔ صرف جنوبی علاقہ جو پرانے شہر کا احاطہ کرتا ہے آئے دن ایسے واقعات پولیس کے لئے بھی چیلنج بن گئے ہیں۔ شدید مسائل اور بڑھتی عوامی برہمی کو دیکھتے ہوئے عوامی نمائندے عوام کے درمیان آچکے ہیں اور عوام کے ساتھ مل کر جرائم کے خلاف آواز بلند کررہے ہیں۔ کیا وجہ ہیکہ ان عوامی منتخبہ نمائندوں کی اپیل اور اقدامات کے باوجود جرائم بالخصوص قتل کی وارداتیں روکنے کا نام نہیں لیتی۔ اکثر شہریوں کا کہنا ہیکہ پولیس ان وارداتوں کی روک تھام میں ناکام ہوگئی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں شہریوں نے اس بات کا اظہار کیا ہیکہ پولیس کی کارروائیوں سے ایسا ظاہر ہوتا ہیکہ پولیس چاہتے ہوئے بھی ان واقعات کو روکنا نہیں چاہتی۔ شہر میں گانجہ اور نشہ کا چلن عام ہوتا جارہا ہے۔ نشہ کسی بھی جرائم کی انجام دہی کیلئے پہلی کڑی ثابت ہوتا ہے۔ نشہ میں دھت نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور ان تک گانجہ و نشیلی ادویات کس طرح پہنچ رہی ہیں انہیں روکا جانا چاہئے، جو پولیس کیلئے بائیں ہاتھ کا کھیل مانا جاتا ہے۔ نشہ کی لعنت کا شکار نوجوان نسل کو اگر نشہ سے دور کردیا جائے اور نشہ پر مکمل قابو پا لیا جائے تو ایسے واقعات کو روکنے میں بڑی حد تک کامیابی حاصل ہوگی۔ پولیس کو چاہئے کہ وہ عوام کے ساتھ اشتراک کرتے ہوئے بستی اور محلوں میں نشہ کے خلاف مہم چلائے اور ذمہ دار شہریوں کے ساتھ بستی سطح پر اقدامات کو انجام دیں اور عوامی منتخب نمائندوں کو شامل کریں تو بہتر نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔ شہر میں آج کل جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات سے شہر میں پرامن رہنے والے عوام کی تشویش میں اضافہ ہورہا ہے ۔ ہر دن شہر کے کسی نہ کسی علاقہ سے ایک درد ناک خبر سامنے ارہی ہے جن پر قابو پانے کیلئے حکومت اور عوامی نمائندوں کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ع