سیاسی سرپرستی و عہدیداروں سے قربت کا فائدہ اٹھانے کوشاں۔بے نامی درخواستیں بھی شامل
حیدرآباد 13 نومبر (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے شہر میں ڈبل بیڈ روم فلیٹس اسکیم کی سرگرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی درمیانی افراد سرگرم ہوچکے ہیں اور بلدی دفاتر کے پاس درخواست گذاروں سے گمراہ کن وعدے کرکے انہیں فلیٹس دلوانے کا جھانسہ دے رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی اسکیم کے تحت داخل درخواستوں کی آئندہ تین ماہ میں یکسوئی کے امکانات ہیں کیونکہ انتخابات سے قبل حکومت کی جانب سے جو عمارتیں مکمل ہوچکی ہیں ان میں فلیٹس کی تخصیص کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے ۔ کہاجا رہاہے کہ آئندہ سال کے اوائل میں فلیٹس کی حوالگی کا سلسلہ شروع کردیا جائیگا۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے پتہ اور فون نمبر ات تبدیل کرنے والے درخواست گذاروں کو اپنے نمبر اور پتہ اپ ڈیٹ کرنے اور اپنے سرکل دفاتر سے رجوع ہونے کے مشورہ کے ساتھ ہی درمیانی افراد کی سرگرمیوں میں اضافہ ہونے لگا ہے ۔ وہ معصوم درخواست گذاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہوچکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں شہروں میں تعمیر ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی حوالگی کی سرگرمیوں کے دوران سیاسی سرپرستی کے حامل افراد اور عہدیدارو ںکی جانب سے بے نامی درخواست گذاروں کوبھی متحرک کردیا گیا ہے۔ ڈبل بیڈ روم اسکیم کے تحت فلیٹس کی حوالگی کے معاملہ میں شفافیت کیلئے لازمی ہے کہ محکمہ مال اور بلدیہ کے اعلیٰ کی جانب سے درخواستوں کی اچھی طرح تنقیح کی جائے اور مستحقین کو فلیٹس مختص کرنے میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے کیونکہ سیاسی اثر رکھنے والوں کی ٹولیاں اور عہدیداروں سے قربت رکھنے والے درمیانی افراد اس میں شفافیت کو مشتبہ بنا رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ انہو ںنے جن لوگوں کی درخواستوں کو داخل کروایا ہے انہیں فلیٹ حاصل ہوں۔ سرکل دفاتر سے رجوع افراد نے یہ بھی شکایت کی کہ جب وہ اپنے اندراجات میں تبدیلی کروانے پہنچ رہے ہیں تو انہیں جلد فلیٹ کے حصول کا جھانسہ دے کر ان سے درمیانی افراد روپئے طلب کر رہے ہیں ۔ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی حوالگی اور تخصیص کے عمل کے متعلق متعدد مرتبہ سے واضح کرچکے ہیں کہ ان فلیٹس کی حوالگی اور تخصیص میں شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا لیکن محکمہ جاتی عہدیدار خود بے نامی درخواستیں داخل کرواچکے ہیںجن کی تنقیح و تحقیق ضروری ہے۔م