ایل۔ نینو کے اثرات نے حکومت کو شدید مشکلات میں مبتلا کردیا، حکومت کے خلاف عوام میں ناراضگی
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔24۔اکٹوبر۔حکومت بلدی انتخابات کے انعقاد کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہے!شہری بلدیا ت کے انتخابات کا انعقاد حکومت کے لئے دردسر ثابت ہونے کا خدشہ ہے اور اگر موجودہ حالات میں انتخابات کا انعقاد میں عمل میں لایا جاتا ہے تو ایسی صورت میں برسراقتدار جماعت کو کراری شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ریاست میں ایل۔نینو کے اثرات نے حکومت کو شدید مشکلات میں مبتلاء کردیا ہے ‘زرعی ‘ برقی اور پانی کے سنگین بحران کے نتیجہ میں ریاستی حکومت کو شدید عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اسی لئے حکومت کی جانب سے شہری بلدیات کے انتخابات جن میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد‘ ملکا جگری میونسپل کارپوریشن ‘ سائبر آباد میونسپل کارپوریشن کے علاوہ کھمم میونسپل کارپوریشن ‘ گریٹر ورنگل میونسپل کارپوریشن کے علاوہ نلگنڈہ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات زیر التواء ہیں اور ان تمام کارپوریشن کے انتخابات کے انعقاد کے بجائے حکومت نے اسپیشل کمشنر کے تقرر کے ذریعہ ان بلدیات کے کام کاج چلانے کا سلسلہ شروع کیا تھا اور کہا جارہاتھا کہ جاریہ سال کے اواخرتک ان شہری بلدیات کے انتخابات کے عمل کو مکمل کرلیا جائے گا لیکن ایل۔نینو کے منفی اثرات کے سبب زرعی سرگرمیوں کے علاوہ شہری علاقوں میں برقی کے مسائل کے ساتھ ساتھ پانی کے مسائل نے حکومت کو تفکرات میں مبتلاء کردیا ہے ۔ بلدی انتخابات کے دوران تمام سیاسی جماعتوں کو عوام کے درمیان پہنچنے پر بلدیات میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں منصوبوں کا اعلان کرنا پڑتا ہے لیکن جب قدرتی وسائل بالخصوص پانی کی شدید قلت کا سامنا ہوتو ایسی صورت میں بلا وقفہ پانی کی سربراہی یا بلا وقفہ برقی سربراہی کے سلسلہ میں عوام سے وعدہ کرنے کے موقف میں کوئی سیاسی جماعت نہیں رہے گی اور عوامی برہمی کا شکار برسراقتدار جماعت کو بنایا جائے گا ۔ اسی لئے حکومت تلنگانہ بلدی انتخابات کے انعقاد کے معاملہ میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ سرکاری سطح پر برقی اور پانی کے کم سے کم استعمال کے سلسلہ میں تیار کئے جانے والے منصوبہ کے تحت برقی کٹوتی کا بھی جائزہ لینے کے اقدامات شروع کردیئے گئے ہیں اور کہاجارہاہے کہ سرکاری دفاتر میں برقی کے استعمال کو محدود کرنے کی تاکید شروع کی جاچکی ہے۔ شہری بلدیات کے حدود میں اگر بلا وقفہ برقی سربراہی میں خلل پیدا ہونا شروع ہوجائے یا پینے کے پانی کی قلت میں اضافہ ہونے لگ جائے تو ایسی صورت میں شدید عوامی ناراضگی کا حکومت کو سامنا کرنا پڑے گا۔بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں ناکامی کے ساتھ اگر حکومت بلدی انتخابات کے انعقاد کے سلسلہ میں پیشرفت کرتی ہے تو اپوزیشن جماعتیں جو فی الحال زرعی سرگرمیوں کے متاثر ہونے کو مسئلہ بنائے ہوئے ہیں اور اس کے اثرات شہری علاقوں میں نظر نہیں آرہے ہیں وہ اپوزیشن قائدین حکومت کو پینے کے پانی اور برقی جیسے مسائل پر نشانہ بناتے ہوئے شہریوں میں حکومت کے خلاف ماحول تیار کرنے میں کامیاب ہونے لگ جائیں گی۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی معیاد کی تکمیل کے بعد سے ہی دونوں شہروں میں بلدی انتخابات کے لئے سرگرمیاں تیز کردی گئی تھیں لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے آؤٹر رنگ روڈ کے حدود میں موجود بلدیات کے انضمام کے ذریعہ تین بلدیات کی تشکیل کے فیصلہ کے نتیجہ میں یہ انتخابات تاخیر کا شکار ہوئے اور پانی کی قلت کے علاوہ برقی سربراہی میں پیدا ہونے والے خلل کی صورتحال کے دوران انتخابات کا انعقاد حکومت کے نقصاندہ ثابت ہوگا اسی لئے حکومت یا ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے ان شہری بلدیات کے انتخابات کے سلسلہ میں کسی بھی طرح کی پیشرفت سے گریز کیا جانے لگا ہے۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن سیاسی جماعتیں شہری بلدیات کے انتخابات کے سلسلہ میں حکومت اورریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے اختیار کردہ تاخیر کے موقف کے خلاف عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے شہری بلدیات کے انتخابات کے انعقاد کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے تاکہ ریاست کو درپیش پانی اور برقی کے سنگین بحران کے معاملہ میں ریاستی حکومت کو عوامی عدالت میں کھڑا کیا جاسکے اور اس صورتحال سے اپوزیشن فائدہ حاصل کرتے ہوئے بلدی انتخابات میں کامیابی حاصل کرسکے۔