شیوکمار کرناٹک کے چیف منسٹر بننے کی راہ ہموار

,

   

نئی دہلی، 29 مئی (یو این آئی) کرناٹک کے سبکدوش ہونے والے نائب وزیرِ اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے ہفتہ کے روز بنگلورو میں منعقد ہونے والی ایک اہم میٹنگ میں کانگریس قانون ساز پارٹی (سی ایل پی) کا لیڈر منتخب کیے جانے کا امکان ہے ، جس کے بعد ریاست کے 24ویں وزیرِ اعلیٰ کے طور پر ان کی تقرری کی راہ تقریباً صاف ہوجائیگی۔سی ایل پی اجلاس ہفتہ کی شام 4 بجے ودھان بھون میں منعقد ہوگا، جہاں پارٹی اراکین سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے سینئر مبصرین کے سی وینوگوپال اور رندیپ سنگھ سرجے والا کی موجودگی میں ڈی کے شیوکمار کی قیادت کی حمایت کریں گے ۔اجلاس میں سبکدوش ہونے والے وزیر اعلیٰ سدارمیا کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جائے گا، جن کے جمعرات کو دیئے گئے استعفے کے بعد ہی قیادت کی منظم تبدیلی کا عمل شروع ہوا تھا۔ ریاستی گورنر تھاورچند گہلوت سدارمیا کا استعفیٰ قبول کرتے ہوئے ریاستی وزارتی کونسل کو تحلیل کر چکے ہیں، تاہم نئی حکومت کے حلف برداری تک اُنہیں قائم مقام وزیراعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دینے کی درخواست کی گئی ہے ۔جنوبی ہند میں کانگریس کے اہم حکمتِ عملی ساز رہنماؤں میں شمار کیے جانے والے ڈی کے شیوکمار نے جمعہ کا دن نئی دہلی میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے ، راہول گاندھی اور سونیا گاندھی کے ساتھ مشاورت میں گزارا۔
سدارمیا کی استعفیٰ کے بعد کھرگے اور راہول سے ملاقات

نئی دہلی، 29 مئی (یواین آئی) کرناٹک کے سبکدوش ہونے والے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے جمعہ کو قومی دارالحکومت میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی سے ملاقات کی۔ سمجھا جاتا ہے کہ سدارمیا کی دونوں رہنماؤں سے الگ الگ ملاقاتوں میں کرناٹک میں نئی حکومت کی تشکیل اور راجیہ سبھا و قانون ساز کونسل کی نشستوں کے لیے ہونے والے انتخابات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ سدارمیا نے پہلے راہول گاندھی سے ملاقات کی۔ اس دوران پارٹی کے کرناٹک انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا بھی موجود تھے ۔ بعد میں انہوں نے کانگریس صدر کھرگے سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد کھرگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سدارمیا کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ان کی عوامی زندگی ہمیشہ وقار، ہمدردی اور سماجی انصاف کے لیے گہری وابستگی کی علامت رہی ہے ۔ ایک سادہ پس منظر سے نکل کر دو مرتبہ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بننے تک سدارمیا نے مساوات، ہم آہنگی اور محروم طبقات کی فلاح کے لیے مسلسل کام کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک اور کانگریس پارٹی عوامی زندگی میں ان کی خدمات کے لیے ہمیشہ ان کی شکر گزار رہے گی۔ کانگریس صدر نے سدارمیا کی اچھی صحت اور عوامی خدمت میں ان کی مسلسل شمولیت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔ قابلِ ذکر ہے کہ کرناٹک کے گورنر تھاور چند گہلوت نے آج باضابطہ طور پر سدارمیا کا وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ قبول کر لیا اور ریاستی وزارتی کونسل کو فوری اثر سے تحلیل کر دیا۔ انہوں نے متبادل انتظام ہونے تک سدارمیا سے وزیر اعلیٰ کے طور پر کام جاری رکھنے کو کہا ہے ۔ سدارمیا نے جمعرات کو کانگریس اعلیٰ قیادت کی ہدایت پر وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ گورنر کے بنگلورو سے باہر ہونے کے باعث انہوں نے ان کے سیکریٹری کو استعفیٰ سونپا تھا۔ سرکاری طور پر ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ سدارمیا کے جانشین کون ہوں گے ، لیکن یہ مانا جا رہا ہے کہ سابق نائب وزیر اعلیٰ ڈی۔ شیوکمار اگلے وزیر اعلیٰ ہوں گے۔

سدارامیا کا استعفیٰ گورنر نے قبول کرلیا، کابینہ تحلیل
بنگلورو، 29 مئی (یو این آئی) کرناٹک کے گورنر تھاور چند گہلوت نے جمعہ کے روز وزیر اعلیٰ سدارامیا کا استعفیٰ قبول کر لیا۔ مسٹر سدارامیا کی جانب سے اپنا استعفیٰ سونپے جانے کے ایک دن بعد گورنر نے یہ قدم اٹھایا ہے ۔ یہاں راج بھون سے جاری ایک سرکاری تصدیق کے مطابق، گورنر نے مسٹر سدارامیا کی قیادت والی کابینہ کو بھی فوری طور پر تحلیل کر دیا ہے ۔ جب تک متبادل انتظام نہیں ہو جاتا، مسٹر سدارامیا وزیر اعلیٰ کے طور پر کام کرتے رہیں گے ۔ مسٹر سدارامیا نے جمعرات کو کانگریس ہائی کمان کی ہدایات کے بعد وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ ان کی جگہ کسے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سونپا جائے گا۔