حیدرآباد 15 اگسٹ ( سیاست نیوز) صدرنشین بار کونسل آف انڈیا و رکن پارلیمنٹ بی جے پی منن کمار مشرا کو ’نلسار ‘ معاملہ میں دوسری مرتبہ خفت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے ’نلسار ‘ طلبہ کے ’معذرت خواہی ‘ کے مطالبہ کو قبول کرکے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ان کے بیان ‘ مکتوب یا بیان کے کسی حصہ سے لاء گریجویٹس کو کوئی تکلیف یا دل آزاری ہوئی ہے تو وہ ان سے معذرت خواہ ہیں۔انہوں نے مکتوب معافی جاری کرکے کہا کہ معذرت خواہی کوئی ’انا‘ کا مسئلہ نہیں ہے اسی لئے وہ طلبہ کے مطالبہ کا احترام کرکے ان سے معذرت خواہی کر رہے ہیں۔ منن کمار مشرا نے اپنے بیان کے حصوں کا کوئی تذکرہ نہیں کیا جس کے متعلق طلبہ نشاندہی کرکے ’معذرت خواہی ‘ کا مطالبہ کر رہے تھے۔گذشتہ دنوں بار کونسل نے ’نلسار‘ طلبہ کی جانب سے کانووکیشن میں چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کو مدعو نہ کرنے کے معاملہ میںمداخلت کرکے تمام ریاستوں کی بار کونسل کو ہدایت دی تھی کہ وہ’نلسار‘ کے سال 2026 کے کسی بھی گریجویٹ کو بہ حیثیت وکیل رجسٹرڈ نہ کریں لیکن اس مکتوب پر ہنگامہ آرائی کے ساتھ ہی بار کونسل نے مکتوب سے دستبرداری اختیار کرکے نیا مکتوب جاری کردیا اس کے باوجود ’نلسار ‘ طلبہ اور ملک بھر کی وکلاء برادری میں شدید برہمی تھی اور دوسرے ہی دن سپریم کورٹ میں دائر درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے معاملہ کو ان کے اور طلبہ کے درمیان قرار دیتے ہوئے بار کونسل کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔نلسار طلبہ نے ’یوم آزادی‘ کے موقع پر تحریری مکتوب کی اجرائی کے ذریعہ منن کمار مشرا کے ریمارکس کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے ان سے ’معذرت خواہی ‘ کا مطالبہ کیا تھا۔صدرنشین بار کونسل منن کمار مشرا کو ’نلسار‘ طلبہ کے خلاف زبان پر غیر مشروط معذرت خواہی کرنی ہوگی بصورت دیگر ’نلسار ‘ میں زیر تعلیم طلبہ ان کے خلاف شدید احتجاج کا آغاز کریں گے۔ملک کی سرکردہ لاء یونیورسٹی کے طلبہ نے صدرنشین بار کونسل کے مکتوب اور اس میں استعمال کی گئی زبان پر شدید ردعمل ظاہرکرکے کہا کہ مکتوب سے دستبرداری سے مسئلہ حل نہیں ہوگا ‘صدرنشین بی سی آئی کو اس میں غیر مشروط معذرت خواہی کرنی ہوگی۔ طلبہ کی تنظیم نے الزام عائد کیا کہ بارکونسل صدرنشین نے جس انداز میں طلبہ کو نشانہ بنایا تھا وہ ناقابل برداشت ہے اسی لئے بی سی آئی کے مکتوب سے دستبرداری پر بات ختم نہیں ہوتی بلکہ اب صدرنشین بی سی آئی کو طلبہ کے خلاف ریمارکس پر معذرت خواہی کرنی ہوگی کیونکہ انہوں نے طلبہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔منن کمار مشرا کی معذرت خواہی پر ’نلسار ‘ یونیورسٹی طلبہ بے فی الحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ۔3