طلباء و نوجوانوں کا پارلیمنٹ مارچ

   

ایک سلطنت تباہ ہوئی بات بات میں
دونوں طرف سے جو ہوا اچھا نہیں ہوا
وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفی کے مطالبہ اور شعبہ تعلیم میں اصلاحات و بہتری کے مطالبہ پر وجود میں آئے پلیٹ فارم کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے پیر 20 جولائی کو دہلی کے جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک مارچ کا اعلان کیا گیا ہے ۔ سی جے پی کی جانب سے گذشتہ ایک ماہ سے جنتر منتر پرپرامن احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور اس ایک ماہ میں ایک بھی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جسے ناخوشگوار کہا جاسکے ۔ اس پلیٹ فارم سے وابستہ نوجوان اور اس کی تائید و حمایت کرنے والے نوجوان پورے امن و سکون کے ساتھ احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں حالانکہ اس احتجاج کو متاثر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ۔ اشتعال انگیز کوششیں بھی کی گئیں لیکن ان نوجوانوں اور طلباء نے امن و سکون کو برقرار رکھا تھا ۔ ماحولیاتی کارکن سونم وانگ چوک 21 دن سے بھوک ہڑتال کر رہے تھے جنہیں ہفتے کی صبح پولیس نے وہاں سے اٹھالیا اور دواخانہ منتقل کردیا گیا ۔ سونم وانگ چوک کی منتقلی کے باوجود سی جے پی نے 20 جولائی پیر کو پارلیمنٹ تک مارچ کا پروگرام برقرار رکھا ہے ۔ طلباء اور نوجوان اپنے مسائل اور شکایات حکومت کو پیش کرنا چاہتے ہیںاور گذشتہ ایک ماہ سے احتجاج کے باوجود حکومت نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی اور اس احتجاج کو نظر انداز کیا جاتا رہا ۔ سونم وانگ چوک کی منتقلی بھی شائد اس پارلیمنٹ مارچ کو ناکام بنانے کی کوششوں کا ہی ایک حصہ ہو تاہم سی جے پی اس احتجاج کو جاری رکھنے پر اٹل ہے ۔ اس کیلئے مختلف گوشوں سے تائید و حمایت بھی کی جا رہی ہے ۔ امید کی جا رہی ہے کہ ملک کے مختلف شہروں اور علاقوں سے طلباء و نوجوان اس پارلیمنٹ مارچ میں حصہ لینے دہلی پہونچ سکتے ہیں۔ خاص طور پر دہلی کے اطراف کی ریاستوں کے شہروں سے ان کی آمد کا امکان ہے ۔ سی جے پی کے حلقوں کا کہنا ہے کہ تقریبا 50 ہزار افراد اس احتجاج میںحصہ لے سکتے ہیں ۔ حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں کیا کچھ منصوبہ بندی کی گئی ہے اس کا ابھی کویء علم نہیں ہے تاہم یہ ضرور ہے کہ حکومت بھی اس سے نمٹنے تیاری کر رہی ہے ۔
چونکہ گذشتہ ایک ماہ سے جو احتجاج جاری ہے وہ انتہائی پرامن اور پرسکون رہا ہے ایسے میں حکومت کو پارلیمنٹ مارچ کو روکنے یا اسے سبوتاج کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے ۔ طلباء و نوجوانوں کو بھی اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ یہ احتجاج جنتر منتر کے احتجاج کی طرح انتہائی پرامن اور منظم رہے ۔ قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنے مطالبات کو حکومت تک پہونچانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے اور نہ کوئی مسئلہ ہونا چاہئے ۔ حکومت کو اپنے مطالبات کی جانب متوجہ کرنے ہی ایک ماہ سے جنتر منتر پر احتجاج شروع کیا گیا تھا جسے حکومت نے کوئی اہمیت نہیں دی اور نہ ہی اس جانب کوئی توجہ دی گئی ۔ کسی نمائندہ کو بات چیت کیلئے بھیجنا تو دور کی بات ہے اس پر کوئی بیان تک جاری نہیں کیا گیا ۔ اس کے برخلاف کچھ فرقہ پرست عناصر اور بیمار ذہنیت رکھنے والے افراد کو استعمال کرتے ہوئے احتجاج کو متاثر کرنے اور فرقہ وارانہ خطوط پر بانٹنے کی کوشش ضرور کی گئی تھی جو ناکام ہوگئی ۔ گودی میڈیا کی جانب سے بھی اس مسئلہ کو مسلسل نظر انداز کیا گیا اور اس کی کوئی تشہیر نہیں ہوئی ۔ اگر کوئی چینل وہاں تک پہونچا بھی تو روایتی زہر افشانی والے سوالات کرنے کی کوشش کی گئی تھی جسے احتجاجیوں یا ان کے حامیوں نے ناکام بنادیا تھا ۔ اب جبکہ پارلیمنٹ مارچ ہونے والا ہے تو یہ اندیشے ہیں کہ حکومت اس کو سبوتاج کرنے یا ناکام کرنے کی کوشش کرسکتی ہے ۔ اس معاملے میں چوکسی ضروری ہے ۔
حکومت کو اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پرامن احتجاج جو قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے کیا جائے وہ عوام کا حق ہے ۔ حکومت کو اس معاملے میں کسی طرح کے اندیشوں کا شکار ہوئے بغیر طلباء و نوجوانوں کے مطالبات کی سماعت کرنی چاہئے ۔ ان کا جائزہ لیا جانا چاہئے ۔ سی جے پی کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ پارلیمنٹ مارچ کو بھی پرامن اور پرسکون بنائے رکھے ۔ اپنے مطالبات پر اٹل رہیں اور کسی کو بھی صورتحال کے استحصال یا فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم نہ کیا جائے ۔