نئی دہلی، 3 ستمبر (یو این آئی) سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ بار کونسل آف انڈیا اور ریاستوں کی بار کونسلوں کے پاس قانون کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا کوئی قانونی حق نہیں ہے ۔عدالت نے واضح کیا کہ ایسے ڈسپلنری اختیارات صرف طالب علم کے اصل ادارے یا ادارے کو چلانے والے قواعد و ضوابط کے تحت مقررہ اتھارٹی کے پاس ہوتے ہیں۔ بار کونسل کسی شخص پر ڈسپلنری اختیار صرف تبھی حاصل کرتی ہے جب وہ ایک ایڈووکیٹ کے طور پر نامزد ہو جاتا ہے ۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے بی سی آئی کے صدر منن کمار مشرا کی جانب سے 13 اگست کو جاری ہدایات کو قانونی طور پر کالعدم قرار دیا۔ قابل ذکر ہے کہ بی سی آئی صدر نے نالسر یونیورسٹی آف لا، حیدرآباد کے سال 2026 کے گریجویٹ بیچ کی نامزدگی پر روک لگانے اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف مہم چلانے پر طلبہ اور فیکلٹی ممبران کے خلاف جانچ کا مطالبہ کیا تھا، جسے شدید عوامی مخالفت کے بعد خود بی سی آئی نے واپس لے لیا تھا اور منسوخ کر دیا تھا۔سپریم کورٹ نالسر کے دو سابق طلبہ، مہرا سود اور ابھشیک تیواری کی ایک رٹ پٹیشن پر سماعت کر رہی تھی، جس میں بی سی آئی صدر کی طرف سے جاری ان متنازعہ ہدایات کو چیلنج کیا گیا تھا۔
راجستھان اور یوپی کے سرکاری اسکولوں میں بیرونی لوگوں اور میڈیا کے داخلے پر پابندی کیخلاف عرضی سپریم کورٹ سے خارج
نئی دہلی، 3 ستمبر (یو این آئی) سپریم کورٹ نے جمعرات کو راجستھان اور اتر پردیش کے سرکاری اسکولوں میں بیرونی افراد، صحافیوں، یوٹیوبرز، سوشل میڈیا صارفین اور سویلین سوسائٹی کے نمائندوں کے داخلے پر عائد پابندیوں کو چیلنج کرنے والی مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔اس عرضی میں اسکولوں کے اندر فوٹو گرافی، ویڈیو گرافی، انٹرویو، آڈیو ریکارڈنگ اور لائیو اسٹریمنگ پر لگائی گئی پابندیوں کو بھی چیلنج کیا گیا تھا۔جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آلوک ارادھے کی بنچ نے پریا مشرا کی اس عرضی کو خارج کرتے ہوئے تبصرہ کیا، “ہم ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت دائر اس رٹ پٹیشن پر غور کرنے کے خواشمند نہیں ہیں۔”یہ عرضی “اسکول ٹھیک کرو” مہم کے تناظر میں دائر کی گئی تھی، جس کا مقصد سرکاری اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کی کمیوں کو اجاگر کرنا ہے ۔ عرضی میں راجستھان حکومت کے 16 اگست کے اس سرکلر کو چیلنج کیا گیا تھا، جس میں بیرونی لوگوں کے لیے سرکاری اسکولوں میں داخل ہونے اور فوٹو گرافی، ویڈیو گرافی یا لائیو اسٹریمنگ کرنے کے لیے پہلے سے اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا تھا۔اسی طرح، اتر پردیش کے تناظر میں عرضی میں 19 اگست کے ایودھیا انتظامیہ کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا، جس میں بیرونی لوگوں، یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا صارفین کو بغیر اجازت کے کونسل اسکولوں میں داخل ہونے یا تصاویر/ویڈیو لینے پر روک لگائی گئی تھی۔ ریاست کے کئی دیگر اضلاع میں بھی ایسے ہی ہدایات جاری کی گئی تھیں ۔