طوفان ’ارنب‘ آندھرا کے ساحل سے ٹکرانے کے بعد کمزور

,

   

اوڈیشہ میں شدید بارش، آندھرا پردیش میں 5اموات ، ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل، حکام چوکس

نئی دہلی ؍ امراوتی؍بھوبنیشور، 28 اکتوبر (ایجنسیز) شدید سمندری طوفان ’ارنب‘ چہارشنبہ کی صبح آندھرا پردیش اور یانم کے ساحلی علاقوں سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں ساحلی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات ہند (آئی ایم ڈی) کے مطابق طوفان نے باپٹلا اور وشاکھاپٹنم کے درمیان یانم کے جنوب مغرب میں ساحلی خطہ عبور کیا۔ اس دوران ہواؤں کی رفتار 125 تا 135 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی، جبکہ جھکڑوں کی رفتار 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی۔ بعد ازاں طوفان کی شدت انتہائی شدید سے شدید زمرے میں آگئی اور زمین کے اندرونی علاقوں کی جانب بڑھتے ہوئے اس کے مزید کمزور ہونے کی پیش قیاسی کی گئی۔ ذرائع ابلاغ میں سرکاری عہدیداروں کے حوالے سے بتایا گیا کہ آندھرا پردیش میں کم از کم 5 افراد کی موت ہوئی اور 31 مکانات کو نقصان پہنچا۔ درختوں کے گرنے اور برقی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے دوران جانی حادثات پیش آنے کی اطلاعات ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو 5 لاکھ روپئے ایکس گریشیا کا اعلان کیا گیا ہے۔ احتیاطی اقدامات کے تحت آندھرا پردیش میں تقریباً 57 ہزار افراد کو امدادی کیمپوں میں منتقل کیا گیا، جبکہ اوڈیشہ میں بھی 30 ہزار سے زائد افراد کا تخلیہ کرایا گیا۔ طوفان کے اثرات کے باعث جنوبی اوڈیشہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شدید سے انتہائی شدید بارش کا خطرہ برقرار ہے۔ محکمہ موسمیات نے حساس اضلاع کے لیے انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا کہ موسلادھار بارش، گرج چمک، تیز ہواؤں اور بعض مقامات پر سیلابی صورتحال کے نتیجے میں آمدورفت، برقی سربراہی اور معمولاتِ زندگی متاثر ہوسکتے ہیں۔ آئندہ چند دنوں کے دوران مغربی بنگال کے بعض علاقوں میں بھی شدید بارش کی پیش قیاسی کی گئی ہے۔ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی ٹیمیں متاثرہ ریاستوں میں بچاؤ اور امدادی کارروائیوں کے لیے تعینات کی گئی ہیں۔ حکام نے نشیبی اور حساس علاقوں کے رہنے والوں کو سرکاری ہدایات پر عمل کرنے، گرے ہوئے برقی تاروں سے دور رہنے اور سمندر میں جانے سے گریز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اگرچہ طوفان ’ارنب‘ کی شدت میں کمی آئی ہے، تاہم محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ ساحل سے ٹکرانے کے بعد بھی شدید بارش کا خطرہ ہے ۔