عالمی ادارہ صحت غزہ میں تین ماہ بعد طبی امداد پہنچانے میں کامیاب

   

جنیوا ۔ 27 جون (ایجنسیز) عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ غزہ کے فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان کی کھیپ غزہ پہنچ گئی ہے۔ 2 مارچ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امدادی سامان کی یہ کھیپ غزہ پہنچ سکی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا ہے کہ امدادی سامان کی اس کھیپ میں طبی سامان ہے۔ جو آنے والے دنوں میں ہسپتالوں کو دیا جائے گا۔خیال رہے 2 مارچ سے اسرائیلی فوج نے غزہ میں ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ تقریباً دو ماہ بعد اسرائیلی فوج نے غزہ کے فلسطینیوں تک خوراک پہنچانے کی اجازت دی۔ لیکن اس کے علاوہ کسی بھی طرح کا امدادی سامان فلسطینیوں تک پہنچنے کی اسرائیلی فوج نے اجازت نہیں دی ہے۔ٹیڈروس نے کہا ہے کہ 9 ٹرکوں پر 2000 یونٹ خون اور 1500 یونٹ پلازما موجود ہے۔ جس کی تقسیم ترجیحی بنیادوں پر کی جائے گی۔بتایا گیا ہے کہ خون اور پلازما ‘نصیر میڈیکل کمپلیکس’ کے کولڈ سٹوریج تک پہنچایا گیا ہے۔ تاکہ غزہ کے ان بچے کھچے ہسپتالوں کو دیا جا سکے جو زخمی فلسطینیوں کی طبی ضروریات پوری کرنے کے لیے طبی سہولیات کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق غزہ کے 36 ہسپتالوں میں سے صرف 17 ہسپتال جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔ باقی ہسپتال اسرائیلی فوج کی بمباری سے تباہ ہو چکے ہیں۔ٹیڈروس نے مزید کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مزید چار ٹرک کرم شالوم راہداری پر ہیں جو غزہ کی طرف آرہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طبی سامان کے یہ ٹرک سمندر میں ایک قطرہ کی مانند ہیں۔ غزہ کے فلسطینیوں کی جان بچانے کے لیے بڑے پیمانے پر امدادی سامان کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا غزہ میں امدادی سامان کی بلا روک ٹوک اور مستقل ترسیل کا مطالبہ کرتے ہیں۔خیال رہے ماہ مئی میں اسرائیل نے غزہ میں خوراک لانے کی اجازت دی تھی۔ تب سے ‘غزہ فاؤنڈیشن’ غزہ میں قحط کے قریب پہنچے فلسطینیوں میں خوراک تقسیم کر رہی ہے۔