عدالت کی ہدایت پر اکبر اویسی کے خلاف مقدمہ درج

   

حیدرآباد /21 نومبر ( سیاست نیوز ) مجلسی قائد مقننہ اکبر اویسی کے خلاف اشعتال انگیزی کا ایک مقدمہ درج کرنے نامپلی میٹروپولیٹن کورٹ نے سعیدآباد پولیس کو حکم دیا ۔ ایک وکیل کرونا ساگر نے نامپلی کورٹ کے 14 ویں ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کے اجلاس پر درخواست دائر کی جس میں چندرائن گٹہ رکن اسمبلی پر الزام عائد کیا کہ جاریہ سال 26 جولائی کو کریم نگر کے ایک شادی خانہ میں منعقدہ جلسہ یاد فخر ملت سے خطاب میں مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریر کی ۔ وکیل نے درخواست میں یہ بتایا کہ اکبر اویسی نے 2013 میں عادل آباد کے نرمل ٹاون میں اشتعال انگیز تقریر کی تھی جس پر انہیں گرفتار کیاگیا تھا اور بعد ازاں مشروط ضمانت پر رہائی عمل میں آئی تھی ۔ 2015 میں بہار ضلع کشن گنج کوچا دامن میں بھی اشتعال انگیز تقریر کرکے ضمانت کی خلاف ورزی کی تھی ۔ الزام عائد کیا گیا کہ مجلسی رکن اسمبلی دونوں فرقوں کے درمیان منافرت پیدا کر رہے ہیں اور مذہب کی بنیاد پر عوام کو بانٹنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ وکیل کی بحث پر سماعت کے بعد عدالت نے سعیدآباد پولیس کو حکم دیا کہ اکبر اویسی کے خلاف تعزیرات ہند دفعات 153A,B,506 کے تحت مقدمہ درج کرکے اس کیس کی تحقیقات کی جائے اور بعد ازاں اس کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے ۔