صرف اپنوں کے تقرر کا ارادہ ہوگا
اور اخبار میں اعلان ضرورت دیں گے
بی جے پی نے بارہ سال قبل مرکز میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد کانگریس مکت بھارت کا نعرہ دیا تھا ۔ جس وقت بی جے پی نے یہ نعرہ دیا تھا اس وقت کانگریس کی حالت انتہائی کمزور تھی اور علاقائی جماعتوں نے بھی مرکزی حکومت کے اس منصوبے کی ایک طرح سے حمایت کی تھی اور وہ اپنی جگہ مطمئن تھے کہ کانگریس کا اگر صفایا ہوجائے تو علاقائی جماعتوں کو پھلنے پھولنے کا زیادہ موقع حاصل رہے گا ۔ کانگریس ہی وہ جماعت تھی جو ملک کی تقریبا ہر ریاست میں اپنا سیاسی وجود رکھتی تھی اور تنظیمی ڈھانچہ بھی موجود تھا ۔ تاہم ایک دہے سے زیادہ عرصہ گذرنے کے بعد یہ حقیقت کھل کر سامنے آ رہی ہے کہ کانگریس مکت بھارت تو ممکن نہیں ہوسکا اور کانگریس نے گذشتہ بارہ سال میں کچھ استحکام بھی ضرور حاصل کرلیا ہے اور وہ حکومت سے ٹکراؤ کی پالیسی سے بھی گریز نہیں کر رہی ہے تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان 12 برسوں میں علاقائی اور چھوٹی جماعتوں کا وجود ضرور خطرہ میں پڑ گیا ہے ۔ ملک میں علاقائی جماعتوں کا مرحلہ وارا نداز میں صفایا کیا جا رہا ہے یا انہیں اس حد تک کمزور کردیا جا رہا ہے کہ وہ زیادہ سیاسی جدوجہد کرنے کے موقف میں رہ نہیں پائیں۔ اپوزیشن جماعتیں اب اس صورتحال کا شکار ہوگئی ہیں کہ انہیں اپنے وجود کیلئے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے ۔ کئی جماعتوں کو بی جے پی کی جانب سے نشانہ بناتے ہوئے عملا ان کو ختم کرنے جیسے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ کانگریس کو وہ طاقت اور استحکام نہیں ملی ہے جتنی اسے ملنی چاہئے تھی تاہم کانگریس کا وجود خطرہ میں دکھائی نہیں دیتا لیکن علاقائی جماعتوں کا وجود ضرور مسائل کا شکار ہوکر رہ گیا ہے ۔ علاقائی جماعتوں نے بی جے پی کا ساتھ دیتے ہوئے کانگریس کے خلاف جدوجہد کی تھی لیکن آج خود ان کا وجود ہی خطرہ میں پڑ گیا ہے ۔ مہاراشٹرا میں شیوسینا اور این سی پی کو پھوٹ کا شکار کردیا گیا اور جو طاقت ان جماعتوں کی تھی وہ کمزور ہو کر رہ گئی ہے ۔ وہی حال بہار میں انتخابی جیت کے باوجود نتیش کمار کا کردیا گیا ۔ انہوں نے چیف منسٹر کا عہدہ چھوڑ کر راجیہ سبھا کی نشست پر اکتفاء کرلیا ہے ۔ پنجاب میں اکالی دل سے اتحاد کیا گیا پھر اس کی طاقت ختم کرتے ہوئے اب بی جے پی وہاں تنہا مقابلہ کی تیاری کر رہی ہے ۔
بی جے پی نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں جیت حاصل کرنے کے بعد ترنمول کانگریس کو انتہائی تیزی کے ساتھ مسمار کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔ پارٹی سربراہ ممتابنرجی کے انتہائی قریبی ساتھیوں کو بھی ان کے خلاف کردیا گیا ہے ۔ کئی ارکان پارلیمنٹ اور درجنوں ارکان اسمبلی اب ممتابنرجی سے دوری اختیار کرنے لگے ہیں۔ بنگال میں ترنمول کانگریس کا وجود ہی خطرہ میں پڑ گیا ہے اور وہاں بھی ٹوٹ پھوٹ کرواتے ہوئے بی جے پی اپنے سیاسی ایجنڈہ اور عزائم کو آگے بڑھانے کی سرگرم کوششیں شروع کرچکی ہے ۔ ابھی بنگال کا معاملہ پوری طرح ختم نہیں ہوا تھا کہ مہاراشٹرا میں شیوسینا ادھو ٹھاکرے گروپ میں ایک اور پھوٹ کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ مہاراشٹرا میں شیوسینا ادھو ٹھاکرے گروپ کے سات ارکان پارلیمنٹ کو انحراف کیلئے اکسایا جا رہا ہے ۔ ان کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے اور ادھو ٹھاکرے کی سیاسی کمر توڑنے کے منصوبوں پر عمل شروع ہوچکا ہے ۔ اسی طرح پنجاب میں عام آدمی پارٹی کو کمزور کرنے کیلئے اس کے سات ارکان راجیہ سبھا سے انحراف کروایا گیا ۔ ان ارکان پارلیمنٹ نے عام آدمی پارٹی کو چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی ۔ عام آدمی پارٹی میں رہتے ہوئے عوامی مسائل پر مسلسل سرگرمی دکھانے والے راگھو چڈھا اب اطمینان سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور انہوں نے نیٹ پیپر لیک معاملہ میں بھی لب کشائی کو ضروری نہیںسمجھا ۔ پنجاب میں اپنے عزائم کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ارکان اسمبلی کو بھی انحراف کیلئے اکسانے کی اطلاعات ہیں ۔
جموں و کشمیر میں محبوبہ مفتی کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے ان کی سیاسی طاقت کو کمزور کردیا گیا تھا ۔ ان تمام حالات سے پتہ چلتا ہے کہ کانگریس مکت بھارت کا نعرہ دینے والی بی جے پی در اصل علاقائی جماعتوںکو ختم کرنا چاہتی ہے ۔ انتخابات میں جس طرح کی دھاندلیوں کی شکایت سامنے آ رہی ہے ان کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ بی جے پی ملک میں ایک سیاسی پارٹی کا نظام ہی لانا چاہتی ہے ۔ علاقائی جماعتوں نے کانگریس کی مخالفت میں بی جے پی کا ساتھ دیتے ہوئے جو غلطی کی تھی اس کا خمیازہ اب انہیں بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کم از کم اب بی جے پی کے عزائم کو سمجھتے ہوئے تمام جماعتیں متحد ہوجائیں اور کانگریس کی قیادت میں حکومت کے خلاف جدوجہد کا راستہ اختیار کریں۔ عوام سے رجوع ہوکر عوام کی تائید حاصل کرتے ہوئے بی جے پی کے عزائم کو ناکام بنایا جاسکتا ہے ۔
لبنان پر حملے روکے جائیں
امریکہ کی نگرانی میں طئے پائے امن معاہدہ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ وہاں تباہی مچائی جا رہی ہے اور انسانی جانیں بھی ضائع ہو رہی ہیں۔ اسرائیل جنگ بندی معاہدہ پر دستخط کرنے کے باوجود اپنے جارحانہ عزائم کی تکمیل میں جٹا ہوا ہے اور وہ لگاتار حملے کر رہا ہے ۔ امریکہ اس معاملے میں عملا خاموشی اختیار کرنے لگا ہے حالانکہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیل پر لگام کسے اور ان حملوں کا سلسلہ روکنے کیلئے اسرائیل پر دباؤ ڈالے ۔ ایران کے ساتھ امن معاہدہ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے امریکہ در اصل لبنان پر اسرائیل کے مظالم کو نظر انداز کر رہا ہے بلکہ اسرائیل کو یہ گنجائش اور موقع فراہم کر رہا ہے کہ وہاں وہ اپنے منصوبوں کی تکمیل کرلے ۔ یہ امریکہ اور اسرائیل دونوں ہی ڈوغلی پالیسی اور دوہرے معیارات ہیں۔ ایران لگاتار یہ اصرار کر رہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ میںلبنان کا بھی احاطہ کیا جائے ۔ امریکہ کو چاہئے کہ وہ جنوبی لبنان پر ہونے والے اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کا سلسلہ روکے ۔ اسرائیل پر دباؤ ڈالے اور وہاں جو تباہی ہو رہی ہے اس کا سلسلہ روکنے فوری حرکت میں آئے۔