عوام پر بوجھ عائد کئے بغیر مالیہ مستحکم کرنے پر حکومت کا غور

   

شراب کی قیمتوں میں اضافہ اور پلاٹس ‘فلیٹس کی فروخت کی تجویز ۔ مرکز سے وصول طلب بقایہ جات کی وصولی پر بھی توجہ

حیدرآباد 7 نومبر ( سیاست نیوز ) اقتصادی سال کے پہلے نصف میں مالیاتی مشکلات کے پیش نظر ریاستی حکومت کی جانب سے اپنے مالیہ کو مستحکم کرنے کیلئے مختلف اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے ۔ عہدیداروں کی جانب سے مالیہ کو مستحکم بنانے کی متبادل تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ حکومت اور عہدیدار تاہم اس معاملے میں ایک رائے ہیں کہ ٹیکس یا محاصل میں اضافہ کئے بغیر آمدنی کو بڑھانے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ کہا گیا ہے کہ 2024-25 کیلئے جملہ 2.74 لاکھ کروڑ روپئے آمدنی کا نشانہ مقرر کیاگ یا تھا اور اب تک جملہ 1.08 لاکھ کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے ۔ جہاں تک ٹیکس مالیہ وصولی کا سوال ہے تو حکومت کی جانب سے جملہ 1.64 لاکھ کروڑ روپئے کا نشانہ رکھا گیا تھا اور تاحال 69 ہزار کروڑ روپئے کی وصولی ہوئی ہے ۔ حکومت کیلئے معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے مسائل ہیں اور ان کو دیکھتے ہوئے آمدنی کو بڑھانے اور مالیہ کو مستحکم کرنے کی تجاویز کا جائزۃ لیا جا رہا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ٹیکس وصولی بھی اب تک کی مقررہ شرح سے کچھ کم رہی ہے ۔ ان حالات میں ساری توجہ متبادل اقدامات پر مرکوز کی جا رہی ہے تاکہ آمدنی میں اضافہ ہوسکے اور مالیہ کو مستحکم کیا جاسکے ۔ عہدیداروں کا خیال ہے کہ شراب کی فروخت میںاضافہ کے ذریعہ آمدنی کو بڑھایا جاسکتا ہے ۔ اس تجویز کے تحت شراب کی مختلف برانڈز اور اقسام پر 20 روپئے تا 70 روپئے اضافہ پر غور کیا جا رہا ہے ۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس طرح سے ماہانہ 1000 کروڑ روپئے کی آمدنی بڑھائی جاسکتی ہے ۔ عہدیداروں کا خیال ہے کہ اگر اس تجویز پر عمل کیا گیا تو ٹیکس وصولی میں جو کمی آئی ہے اس کی پابجائی ہوسکتی ہے اور حکومت کو رجسٹریشن یا پراپرٹی ٹیکس میں اضافہ کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ اس کے علاوہ حکومت اپنے اثاثہ جات کے ذریعہ بھی آمدنی بڑھانے پر غور کر رہی ہے اور خاص طور پر اہمیت کے حامل اور بہترین مقامات پر واقع پلاٹس کے ڈیولپمنٹ اور ان کے ہراج کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ تمام شہری ترقیاتی حکام خاص طور پر حیدرآباد میٹرو پولیٹن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں تجاویز روانہ کریں۔ جو فلیٹس راجیو گروہا کلپا اسکیم کے تحت متحدہ آندھرا پردیش ریاست میں تعمیر کئے گئے تھے ان کو فروخت کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ ان اقدامات کا قصد عوام پر ٹیکس کا کوئی نیا بوجھ عائد کئے بغیر ریاست کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے ۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت اور دوسری تنظیموں کی جانب سے وصول طلب بقایہ جات کی وصولی کی کوششیں بھی تیز ہوگئی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ تقسیم ریاست کے بعد سے اب تک کچھ واجبات وصول طلب ہیں۔ حکومت کی جانب سے عوامی اور خانگی اداروں کے بقایہ جات کی وصولی پر بھی توجہ دی جا رہی ہے اور ایک بین محکمہ جاتی کمیٹی اسپیشل سکریٹری برائے فینانس کے راما کرشنا راؤ کی قیادت میں تشکیل دی گئی ہے تاکہ کچھ تنازعات ہیں تو انہیں دور کرتے ہوئے مالیہ وصولی پر توجہ مبذول کی جاسکے ۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے شہریوں اور تجارتی اداروں کی جانب سے بقیہ ٹیکس اور جرمانے ادا کرنے کیلئے ون ٹائم سٹلمنٹ اسکیم کے اعلان پر بھی غور کیا جا رہا ہے ۔ اس کے ذریعہ بھی مالیہ وصولی میں مدد مل سکتی ہے ۔