نئی دہلی: صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر جگت پرکاش نڈا نے کہا ہے کہ کھانے سے پیدا ہونے والی بیماریوں، غذائی ادویات کی حفاظت، نئی خوراک اور مائیکرو پلاسٹک جیسے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے فوڈ ریگولیٹرز کا کردار اہم ہے ۔صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر جگت پرکاش نڈا نے عالمی فوڈ ریگولیٹرز سمٹ 2024 کے دوسرے ایڈیشن کا افتتاح صارفین کے امور، خوراک اور عوامی نظام تقسیم کے مرکزی وزیر اور نئی اور قابل تجدید توانائی کے وزیر پرہلاد جوشی کی موجودگی میں آج یہاں بھارت منڈپم میں کیا۔ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) کی طرف سے صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کے زیراہتمام منعقد ہونے والے اس سمٹ کا انعقاد ورلڈ فوڈ انڈیا 2024ایونٹ کے ساتھ ساتھ، جس کا اہتمام فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز کی وزارت کررہی ہے ، منعقد کیا گیا۔ اس کا مقصد فوڈ سیفٹی نظاموں کو مضبوط کرنے سے متعلق بصیرتوں کا تبادلہ کرنے کے لئے اور فوڈ ویلیو چین کے ذریعہ ریگولیٹری فریم ورک کی خاطر فوڈ ریگولیٹرز کے لئے ایک عالمی پلیٹ فارم قائم کرنا ہے ۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ، مسٹرجے پی نڈا نے کہا کہ “ہمارے عزت مآب وزیر اعظم کے “واسودھیو کٹم بکم” ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل” کے وژن کے مطابق ہم نے 2023 میں جی-20 سربراہی اجلاس کے ساتھ مشترکہ برانڈڈ ایونٹ کے طور پر افتتاحی گلوبل فوڈ ریگولیٹرز سمٹ کا آغاز کیا تھا۔ اس اہم اقدام نے ہمارے فوڈ سیفٹی سسٹم کو درپیش چیلنجوں اور خطرات پر بات کرنے کے لیے عالمی فوڈ ریگولیٹرز کو جمع کیا۔