استفادہ کے لیے 75 گز اراضی خاتون کے نام ہونا اور سفید راشن کارڈ ہونا لازمی
حیدرآباد۔/8 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے ذاتی اراضی رکھنے والے غریب عوام کو مکانات کی تعمیر کیلئے 3 لاکھ روپئے مالی معاوضہ دینے کا جو اعلان کیا گیا اس پر عمل آوری کیلئے رہنمایانہ خطوط تیار کرلئے گئے ہیں۔ اس طرح مکانات کی تعمیرات کیلئے مستحقین کی اہلیت، معیار، نااہلی کا عہدیداروں نے گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد قواعد کو حتمی شکل دی ہے۔ جاریہ ماہ 10 ڈسمبر کو چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی قیادت میں منعقد ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں اس اسکیم اور اس پر عمل آوری کیلئے تیار کردہ رہنمایانہ خطوط کا جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد حکومت کی جانب سے اعلان کرنے کے قوی امکانات ہیں۔ چیف منسٹر کے سی آر نے محبوب نگر کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ذاتی اراضی رکھنے والے غریب عوام کو 3 لاکھ روپئے کا معاوضہ دینے کی اسکیم کا 15 دن میں آغاز کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد عہدیداروں نے جنگی خطوط پر کام کرتے ہوئے رہنمایانہ خطوط کو تیار کیا ہے جو اس طرح ہیں : ذاتی اراضی کے ساتھ سفید راشن کارڈ والے غریب عوام اس اسکیم کیلئے اہل ہوں گے۔ اس اسکیم کیلئے منتخب ہونے والے افراد کو اقساط میں 3 لاکھ روپئے ادا کئے جائیں گے۔ پہلی ترجیح ان دیہاتوں کو دی جائے گی جہاں ڈبل بیڈ روم مکانات تعمیر نہیں ہوئے۔ یہ مالی امداد اُسی خاتون کو دی جائے گی جس کے پاس مکان کی تعمیر کیلئے کم از کم 75 گز اراضی ہو۔ تحصیلدار اور ایم پی ڈی او استفادہ کنندگان کی شناخت کرتے ہیں جس کو کلکٹرس منظوری دیتے ہوئے ہیں تاہم ارکان اسمبلی اور وزراء کی جانچ کے بعد ہی مستحقین کا انتخاب ہوگا۔ ماضی میں اندراماں مکانات حاصل کرنے والے افراد اس اسکیم کیلئے نااہل ہوں گے۔ ایسے افراد کا آن لائن میں نام چیک کیا جارہا ہے، اگر اس فہرست میں ان کا نام ہوتا ہے ایسی درخواستوں کو مسترد کردیا جائے گا۔ تمام غریب عوام کو ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر کیلئے بڑے پیمانے پر اراضی حاصل کرنی پڑتی ہے اور ہر مقام پر اراضی کا حصول ممکن نہیں ہے اس لئے چیف منسٹر کے سی آر نے ذاتی اراضی رکھنے والے غریب عوام کو مکانات کی تعمیرات کیلئے 3 لاکھ روپئے مالی امداد دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تعلق سے ماضی میں کئی اعلانات بھی کئے گئے۔ پہلے ہر اسمبلی حلقہ میں 3 ہزار افراد کا انتخاب کرنے اور فی کس 5 لاکھ روپئے دینے سے اتفاق کیا گیا تھا، جس کے پیش نظر جاریہ سال کے بجٹ میں 12 ہزار کروڑ روپئے خرچ ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ ایس سی، ایس ٹی طبقات کو کچھ زیادہ امداد دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم ریاست کی تازہ مالیاتی صورتحال کے پیش نظر استفادہ کنندگان کی تعداد کو گھٹادیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں ہر اسمبلی حلقہ میں 1000 غریب افراد کا انتخاب کرنے اور ساتھ ہی ایس سی، ایس ٹی طبقات کو بھی دوسروں کی طرح 3 لاکھ روپئے کی مالی امداد دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت نے اندازہ لگایا ہے کہ ریاست میں کرایہ کے مکانات میں رہنے والوں کی تعداد 30 لاکھ سے زیادہ ہے۔ سال 2015 میں حکومت کی جانب سے کئے گئے جامع سروے میں 24,58 لاکھ عوام کرائے کے مکانات میں رہنے کا انکشاف ہوا تھا۔ عہدیداروں نے ان کی تعداد 30 لاکھ سے زائد ہوجانے کا اندازہ لگایا ہے۔ ن