غریبوں اور مسکینوں کا خیال رکھنا

   

علامہ ڈاکٹر میرزا شبیر علی شیرازی
غریبوں اور مسکینوں کو کھانا کھلانا اسلام میں سب سے بڑی اچھی روایات اور مستحب اعمال میں سے ایک ہے. جس کا دنیا اور آخرت میں بڑا اجر ہے۔اور جس کی قرآن کریم اور احادیث میں بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ قرآن پاک یتیموں، مسکینوں کو کھانا کھلانا سچی صدقہ کی نشانی اور جنت تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ اسلامی روایات میں محبوب ترین عمل بھوکے کو کھانا کھلانا اور تسکین دینا خدا کے نزدیک محبوب ترین اعمال میں شمار ہوتا ہے۔حضرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیھم السلام نے ہمیشہ غریبوں کو کھانا کھلایا اور سادگی کی بلندی پر دوسروں کی مدد کی۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا کھلانے کو خدا کے نزدیک بہترین اعمال میں سے ایک قرار دیا ہے۔کھانا کھلانا گناہوں سے پاک ہونے اور غلطیوں کا کفارہ ہونے کا ایک طریقہ سمجھا جاتا ہے۔حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی مومن کو کھانے کے لقمے کی مٹھاس کا مزہ چکھائے گا۔ روایات میں آیا ہے کہ جو شخص کسی بھوکے کو کھانا کھلائے، خاص کر سختی اور قحط کے دنوں میں، اللہ تعالیٰ اسے ایک خاص دروازے سے جنت میں داخل کرے گا۔کھانا کھلانا صرف خدا کی رضا کے لیے ہونا چاہیے ، یہ عمل اخلاص کے ساتھ ہو اور اس میں کوئی احسان یا منافقت نہیں ہونی چاہیے۔اور ضرورت مندوں کو اس طرح کھانا فراہم کرنا بہتر ہے جس سے ان کی عزت نفس اور خود اعتمادی برقرار رہے۔قرآن پاک میں غریبوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ ان کو کھانا کھلانے پر بھی خصوصی زور دیا گیا ہے۔ لہٰذا کھانا کھلانے کے فرض کے ساتھ ساتھ ہم پر یہ بھی فرض ہے کہ ہم دوسروں کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیں۔ ان دو اہم فرائض کو پورا کرنے کے لیے ہماری روزمرہ زندگی میں کیا منصوبہ ہے؟
ہمیں غربت کو ختم کرنا ہوگا۔ غربت کفر کی ایک شکل ہے۔ جس معاشرے میں غربت، بے روزگاری، معیشیت کے حل نہ ہونے والے مسائل، طبقاتی تفریق اور تقسیم ہو وہاں ذہنی سکون نہیں ملتا۔ غربت لوگوں کو بدعنوانی اور کفر کی طرف لے جاتی ہے، غربت کا خاتمہ ضروری ہے۔ اسلامی معاشرے کے اہم ترین مسائل میں سے ایک ’’غربت کا خاتمہ‘‘ اور ’’غریبوں اور محتاجوں کا خیال رکھنا‘‘ہے: ’’ملک میں جو کچھ بھی کیا جاتا ہے اس کا مقصد غربت اور محرومی کو ختم کرنا اور عام لوگوں کی زندگیوں میں خوشحالی پیدا کرنا ہے ۔ نہ صرف عوام کے ایک طبقے اور مخصوص گروہوں کے لیے۔ یہ ایسے ماحول میں ہے کہ لوگ اسلامی نظام، روحانی طور پر روحانی ترقی کے مقصد کو حاصل کر سکتے ہیں۔
انفاق کو تقویت پہونچانا یہ غربت کے خلاف جنگ میں کلیدی حکمت عملی میں سے ایک ہے۔ اسلامی معاشرے میں اس جذبے کو اس طرح پروان چڑھانا چاہیے کہ ہر شخص اپنی جائیداد میں ’’محروموں کے حق‘‘ کو تسلیم کرے، کچھ ایسا کرنا چاہیے کہ ہر کوئی اپنے آپ کو خرچ کرنے کا پابند سمجھے، جس کی آمدنی زیادہ ہے وہ اپنے اخراجات کا تناسب بڑھائے، جس کی آمدنی کم ہے وہ دروازے بند نہ کریں، وہ اسی تناسب سے خرچ کریں، معاشرے میں صدقہ اور خیرات کا جذبہ پیدا ہونا چاہیے، ہمیں محروموں کے حق کو تسلیم کرنے کا ماحول بنانا چاہئے۔ ہم سب کو معلوم ہونا چاہئے ہم جو کچھ اللہ کی راہ میں دیتے ہیں وہ ہمارے لیے رہتا ہے۔ اور درحقیقت، ہم نے اپنے آخرت کے لئے خرچ کیا ہے۔ جو کچھ ہم اپنے لئے رکھتے ہیں، حقیقت میں وہ ہمارے لئے نہیں رہے گا، اور ہر چیز کی طرح، دنیا فنا ہو جائے گی… تم دنیا کے مال و اسباب میں سے جو کچھ بھی دو گے، وہ تمہارے لئیباقی رہے گا۔ الحمد للہ اس نیک عمل میں کئی ادارے مصروف ہیں اور ان میں ادارہ فیض عام ٹرسٹ قابل ذکر ہے۔
[email protected]