غزہ جنگ : امریکہ کے بعد برمنگھم میں بھی یونیورسٹی طلبہ کیخلاف کارروائی

   

لندن: برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی کے دو طلبہ بھی امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی کے طلبہ کی طرح انضباطی کارروائی کی زد میں آگئے ہیں۔ برطانیہ کے انسانی حقوق گروپ نے اس سلسلے میں ملک گیر سطح پر انتباہی مہم شروع کی ہے۔علی کا اس بارے میں کہنا ہے انٹونیا اور میرے خلاف تادیبی کارروائی اختلاف رائے کو دبانے اور طلبہ کی تحریک کو خاموش کرنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ آمرانہ کریک ڈاؤن صرف ہمارے احتجاج کے حق پر حملہ نہیں ہے بلکہ یہ منظم مسلم دشمنی ہے اور افسر شاہی کے جبر کا مظہر ہے۔علی نے مزید کہا کہ فلسطین کیلئے طلبہ کی تحریک پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ طلبہ پر الزامات عائد کرنے کے بجائے، برمنگھم یونیورسٹی کو نسل کشی اور جنگی جرائم میں ملوث کمپنیوں سے دستبرداری پر توجہ دینی چاہیے۔
مرکز کی سینئر قانونی افسر انا اوسٹ کا اس بارے میں کہنا تھا ہمیں گہری تشویش ہے کہ برطانیہ میں بھی طلبہ کو نشانہ بنانے کا یونیورسٹی کا ارادہ ہے کہ طلبہ برادری کو فلسطین کیلئے حق اظہار رائے سے روکنا ہے۔’واضح رہے طلبہ کو غزہ میں اسرائیلی جنگ کی مخالفت کے باعث نشانہ بنانا غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے تناظر میں برطانیہ بھر میں فلسطین کے حامی سرگرمیوں کے خلاف وسیع کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔اکتوبر 2023 کے بعد سے اب تک برطانیہ بھر میں کم از کم 28 یونیورسٹیوں نے اپنے ہاں زیر تعلیم 113 سے زیادہ طلباء￿ کو کارروائی کا نشانہ بنایا ہے۔ جبکہ یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔