غزہ معاہدہ: حماس نے جواب کیلئے مہلت طلب کی

   

تل ابیب : اسرائیلی نشریاتی ادارہ نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی علاقے کی فوجی کمان نے غزہ سے بتدریج انخلا کی تیاری شروع کر دی ہے۔ کمان اب سیاسی سطح کی ہدایات کی منتظر ہے جو ابھی تک موصول نہیں ہوئیں۔ ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کے حوالے سے از سر نو تعیناتی اور نتساریم اور فلاڈلفیا سے بتدریج انخلا کا منصوبہ منظور کر لیا ہے۔ اسی طرح اسرائیلی فوج معاہدے پر دستخط کے کچھ وقت بعد رفح کی گزر گاہ سے بھی چلی جائے گی۔ اسرائیلی فوج نے غزہ کے گرد ایک بفرزون قائم کیا ہے جس کی لمبائی 60 کلو میٹر اور چوڑائی 800 میٹر ہے۔ فسلطینیوں کو اس کے قریب آنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتین یاہو نے اسرائیلی قیدیوں کے گھرانوں کو بتایا ہے کہ وہ تمام قیدیوں کی واپسی کی خاطر طویل مدت فائر بندی کی طرف جانے کو تیار ہیں۔ نیتن یاہو کے مطابق حماس نے ابھی تک مجوزہ فارمولے کا جواب نہیں دیا ہے۔ مزید یہ کہ اس وقت گردش میں تمام باتیں محض قیاس آرائیاں ہیں۔ حماس نے جواب کے لیے چند گھنٹوں کی مہلت طلب کی ہے۔ نیتن یاہو کے مطابق امریکی منتخب صدر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے ساتھ ہی کھیل کے اصول بنیادی طور سے تبدیل ہو جائیں گے۔ فائر بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کا سخت جواب دیا جائے گا۔ قطر، مصر اور امریکہ کے ذمے داران کے علاوہ اسرائیل اور حماس کا بھی یہ کہنا ہے کہ غزہ پٹی میں جنگ بندی ناگزیر ہے۔
اور قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے معاہدہ اب پہلے سے زیادہ قریب ہے۔ قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ معاہدے کا مسودہ فریقین کے حوالے کیا جا چکا ہے۔ حتمی تفصیلات کے سلسلے میں بات چیت جاری ہے۔ البتہ حماس کے دو سینئر ذمے داران کے مطابق تنظیم ابھی تک اسرائیل کی جانب سے ان نقشوں کے دیے جانے کی منتظر ہے جو غزہ میں اسرائیلی فوج کے انخلا کے علاقوں کو واضح کریں۔ دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ غزہ معاہدہ قریب آ چکا ہے۔ انھوں نے منگل کے روز مصری صدر عبد الفتاح السیسی سے ٹیلی فون پر رابطے میں مذاکرات میں پیش رفت کے حوالے سے بات چیت کی۔ دونوں صدور نے باور کرایا کہ معاہدے کے نافذ العمل ہونے کی شدید ضرورت ہے۔