نیویارک : اقوام متحدہ کی انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے والی ایجنسی نے جمعہ کو کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے غزہ میں گنجان آباد علاقوں پر حملوں میں شہریوں پر شدید مظالم کی نشاندہی ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی امداد کی معاون کاری کرنے والی ایجنسی نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں، بشمول گنجان آباد علاقہ پر حملوں میں شہریوں پر شدید مظالم کی نشاندہی ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی ہمدردی کے امور کے کوآرڈینیشن آفس کے ترجمان جینس لائیرک نے جنیوا میں ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں انسانی جان اور وقار سخت نظر انداز ہو رہا ہے۔ جنگی کارروائیاں جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ مظالم کی علامتیں ہیں۔ جینس لائیرک کا مزید کہنا تھا، ہر روز ہم نے بچوں کو قتل ہوتے دیکھا ہے، امدادی کارکنوں کو مارا جا رہا ہے، لوگوں کی بقا کو خطرہ میں ڈال کر زبردستی بے گھر کیا جا رہا ہے۔‘‘ اقوام متحدہ کی انسانی ہمدردی کے امور کے کوآرڈینیشن آفس کے ترجمان نے اس امر کی طرف نشاندہی بھی کی کہ اس صورتحال میں، ’’غزہ میں فلسطینی دھڑوں کی جانب سے راکٹ فائر کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔‘‘
غزہ میں اسرائیلی بربریت جاری، 10 روز میں 900 فلسطینی شہید
غزہ : غزہ پٹی میں جاری اسرائیلی فورسز کی بربریت کے باعث 10 روز میں 900 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں غزہ میں اسرائیلی بمباری اور حملوں کے نتیجے میں 43 فلسطینی شہد اور 115 زخمی ہوگئے۔ جنگ بندی کے خاتمہ کے بعد 18 مارچ سے شروع ہوئے اسرائیلی حملوں میں 896 فلسطینی شہید اور دوہزار کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے بعد غزہ پٹی میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی قتل عام کے نتیجے میں شہادتیں 50 ہزار 251 سے تجاوز کرگئی جبکہ ایک لاکھ 14 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔