غزہ کی تعمیر نو کیلئے 10 سے 15 سال درکار: امریکہ

   

لوگ اپنے گھر جاتے ہیں اور وہاں پانی اور بجلی کی عدم سہولت پر واپس آجاتے ہیں، غزہ کی حکمرانی کا مستقبل ہنوز غیرواضح : امریکی ایلچی

واشنگٹن: مشرق وسطیٰ کیلئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایلچی نے کہا ہیکہ غزہ پٹی میں تقریباً کچھ بھی نہیں بچا ہے اور اس کی تعمیر نو میں 10 سے 15 سال لگ سکتے ہیں۔غزہ کا دورہ کرنے والے اسٹیو وٹ کوف نے Axios کو بتایا کہ لوگ شمال کی طرف گھر جا رہے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا ہوا اور پھر وہ واپس آ جاتے ہیں۔ وہاں پانی ہے، نہ بجلی ہے۔ وہاں تباہی کا اوسط بہت زیادہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ “ایک خیال تھا کہ ہم غزہ کے لیے پانچ سال کے اندر کوئی ٹھوس منصوبہ لے کر آسکتے ہیں لیکن یہ ناممکن ہے۔ تعمیر نو کے منصوبے میں 10 سے 15 سال لگ سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وہاں کچھ بھی نہیں بچا ہے۔ وہاں بہت زیادہ دھماکہ خیز مواد موجود ہے۔ وہاں چلنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ یہ بہت خطرناک ہے۔ اگر میں وہاں جا کر خود نہ دیکھتا تو مجھے یہ معلوم نہ ہوتا۔انہوں نے مزید کہاکہ نیٹزارم اور فلاڈیلفی میں سیکورٹی کے انتظامات توقع سے بہتر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کہ منصوبے کے مطابق امداد غزہ میں داخل ہو رہی ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ میں نے غزہ سے فلسطینیوں کی منتقلی کے خیال پر ٹرمپ سے بات نہیں کی۔وٹکوف نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کیلئے خطے کا دورہ کیا۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ 15 ماہ کی شدید جنگ کے بعد 19 جنوری کو نافذ ہوا تھا اور اس میں دونوں فریقوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی شرط رکھی گئی تھی۔اس میں شمال کی طرف بفر زون کے قیام کے ساتھ پورے تباہ شدہ غزہ سے بتدریج اسرائیلی انخلاء بھی شامل تھا۔اس نے جنگ کے مستقل خاتمے اور غزہ کی تعمیر نو کی بھی شرط رکھی۔اقوام متحدہ کی جانب سے رواں ماہ کیے گئے نقصان کے تخمینے سے پتہ چلتا ہیکہ غزہ کی جنگ سے 50 ملین ٹن سے زیادہ ملبے کو ہٹانے میں 10 سے 15 سال لگ سکتے ہیں اور اس کی لاگت 1.2 بلین ڈالر تک ہے۔ملبے میں ممکنہ طور پر مردہ لوگوں کی باقیات بھی شامل ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کا اندازہ ہے کہ ملبے تلے 10,000 نعشیں دبی ہوئی ہیں۔اگرچہ جنگ کے بعد غزہ کی حکمرانی کا مستقبل ابھی تک غیر واضح ہے۔ مگر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے زور دیا ہے کہ اصل مخمصہ پٹی کے مستقبل کے بارے میں ہے۔انہوں نے جمعرات کو کہا کہ ’’اب اصل چیلنج یہ ہے کہ غزہ کا چارج کس کے ہاتھ میں ہوگا‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ “غزہ معاہدے پر اپنے تمام مراحل میں عمل درآمد مشکوک لگتاہے”۔امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ غزہ معاہدہ اہم تھا، چاہے یہ بہت زیادہ قیمت پر کیوں نہ ہو۔ان کا کہنا تھا کہ “ہم غزہ معاہدے کے مکمل نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے کام کریں گے”۔