غیر قانونی سٹے بازی: سی بی آئی ’مہادیو ایپ‘ کے پروموٹر کو عمان سے وطن واپس لے آئی

,

   

سوربھ چندراکر کو واپس لایا گیا ہے اور اب انہیں پیر، 2 نومبر کو رائے پور میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

نئی دہلی: سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے غیر قانونی سٹے بازی کے مقدمے میں ’مہادیو ایپ‘ کے پروموٹر سوربھ چندراکر کو عمان سے وطن واپس بلا لیا ہے۔ ایجنسی نے اتوار، یکم نومبر کو یہ اطلاع دی۔

انہیں واپس لایا گیا ہے اور اب پیر کے روز انہیں رائے پور میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

چندراکر سی بی آئی کے دو مقدمات میں مطلوب ہیں جن میں چارج شیٹس (فردِ جرم) پہلے ہی دائر کی جا چکی ہیں۔ وہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ایک الگ مقدمے میں بھی ملزم ہیں، جس میں استغاثہ کی جانب سے شکایت دائر کی گئی ہے۔

سی بی آئی نے چھتیس گڑھ حکومت کی درخواست پر ’مہادیو آن لائن بک‘ کیس کی تفتیش شروع کی تھی۔ ایجنسی کے مطابق، ایم او بی “ملک میں غیر قانونی آن لائن سٹے بازی کے سب سے بڑے نیٹ ورکس میں سے ایک تھا، جسے بھارت سے باہر سے چلایا جا رہا تھا”۔

ان کے خلاف جاری ’انٹرپول ریڈ کارنر نوٹس‘ کی بنیاد پر، رائل اومان پولیس نے چندراکر کا سراغ لگایا اور انہیں حراست میں لے لیا۔

سی بی آئی اور ای ڈی نے عمان کو باضابطہ طور پر حوالگی کی درخواستیں بھیجیں، جن کے ساتھ چندراکر کے خلاف شواہد بھی منسلک تھے۔ “حوالگی کی اس درخواست پر بھارتی حکومت کے متعلقہ اداروں اور انٹرپول نیشنل سینٹرل بیورو کے ساتھ قریبی تعاون سے کام کیا گیا، اور اس میں سلطنتِ عمان کے مجاز حکام کا بھی تعاون حاصل رہا۔”

حوالگی کی منظوری ملنے کے بعد، سی بی آئی کی ایک ٹیم مسقط گئی اور چندراکر کو اپنے ساتھ بھارت لے آئی۔

ایم او بی کے بارے میں تفتیش سے کیا انکشاف ہوا؟
سی بی آئی کے مطابق، ایم او بی ایک ایسا غیر قانونی سٹے بازی کا نیٹ ورک چلاتا تھا جس میں کرکٹ، فٹ بال، تاش کے کھیل اور دیگر ایونٹس شامل تھے۔ پورے بھارت میں اس کے فرنچائزڈ “پینلز” اور “شاخیں” صارفین کو رجسٹر کرتی تھیں اور ان سے سٹے کی رقم وصول کرتی تھیں۔

مبینہ طور پر، اس سے حاصل ہونے والی رقم کو متعدد ’میول اکاؤنٹس‘ — یعنی دوسروں کے نام پر کھولے گئے اکاؤنٹس — کے ذریعے منتقل کیا جاتا تھا، مختلف لین دین کے پیچیدہ مراحل سے گزارا جاتا تھا، اور پھر ’حوالہ‘ کے ذریعے بیرونِ ملک بھیج دیا جاتا تھا۔