غیر مجاز تعمیرات باقاعدہ بنانے میں حکومت کو جلدی کیوں ؟

   

ایڈوکیٹ جنرل سے چیف جسٹس ہائی کورٹ کا سوال، بی آر ایس اسکیم پر سابقہ فیصلہ میں تبدیلی سے انکار
حیدرآباد ۔30 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے سوال کیا کہ وہ غیر مجاز تعمیرات کو باقاعدہ بنانے میں جلد بازی کیوں کر رہی ہے۔ عدالت نے اس معاملہ میں مداخلت سے انکار کیا اور ریاستی حکومت کو اس معاملہ میں سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کی ہدایت دی کیونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر دوران ہے۔ چیف جسٹس اجل بھویاں اور جسٹس وجئے بھاسکر ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے ایڈوکیٹ جنرل کی درخواست پر یہ فیصلہ سنایا۔ ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے 2016 ء میں دیئے گئے ہائی کورٹ کے احکامات میں ترمیم کی درخواست کی جس میں بی آر ایس اسکیم کے تحت بلدی حکام کو غیر مجاز تعمیرات باقاعدہ بنانے سے روک دیا گیا تھا۔ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ حکومت سرکاری اراضیات پر غیر مجاز تعمیرات کی اجازت نہیں دے گی۔ اس کے علاوہ جی او 111 کے تحت آنے والے آبگیر علاقوں میں تعمیرات کی اجازت نہیں دے گی۔ گزشتہ 6 برسوں سے غیر مجاز تعمیرات کو باقاعدہ بنانے کا معاملہ تعطل کا شکار ہے۔ فورم فار گڈ گورننس نے بی آر ایس اسکیم کے خلاف درخواست دائر کی اور کہا کہ اس اسکیم کے ذریعہ غیر مجاز تعمیرات کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ ہائیکورٹ نے اس معاملہ میں تمام درخواستوں کی سماعت کو روک دیا تھا کیونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور سپریم کورٹ کی جانب سے تمام ریاستوں سے اس بارے میں تفصیلات حاصل کی جارہی ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے وضاحت کی کہ سپریم کورٹ میں زیر التواء مقدمات غیر قانونی لے آؤٹس اور انہیں باقاعدہ بنانے سے متعلق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کا غیر مجاز تعمیرات کو باقاعدہ بنانے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حکومت چھوٹے اور اوسط مکانات کے مالکین کو راحت پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے عدالت سے کہا کہ دونوں معاملات کے درمیان فرق کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت کو اسکیم پر عمل آوری کی اجازت دی جائے۔ اجازت کی صورت میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کا اثر نہیں ہوگا کیونکہ وہاں بی آر ایس کا معاملہ زیر التواء نہیں ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل کی وضاحت کے باوجود ہائیکورٹ نے مداخلت سے انکار کیا۔ ڈیویژن بنچ نے کہا کہ ہم آپ کے کہنے پر فیصلہ نہیں دے سکتے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ریاستی حکومت غیر مجاز تعمیرات کو باقاعدہ بنانے اس قدر دلچسپی کیوں دکھا رہی ہے۔ ہائی کورٹ نے مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کو 16 فروری تک ملتوی کردیا ۔ر