فراق گورکھپوری کا شعر اور آج کا ہندوستان

   

جسٹس (ریٹائرڈ) مارکنڈے کاٹجو

میری رائے میں اب تک لکھا گیا اُردو کا عظیم شعر وہ ہے جسے عظیم اُردو شاعر فراق گورکھپوری نے کہا اور اس شعر کو راقم الحروف ذیل میں پیش کررہا ہے:
ہر ذرہ پر ایک کیفیتِ نیم شبی ہے
ائے ساقی دوراں یہ گناہوں کی گھڑی ہے
اس شعر کے مطلب و معنی : اس امر کی وضاحت کرنے سے پہلے کہ میں مذکورہ شعر کو اُردو کا سب سے عظیم شعر کیوں سمجھتا ہوں آپ کو یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ اُردو شاعری میں عموماً دو طرح کے معنی و مطالب ہوتے ہیں۔ ایک ظاہری لفظی معنی اور دوسرا باطنی، گہرائی تک پیوست علامتی مفہوم۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ اُردو شعراء اپنے خیالات اپنی سوچ و فکر کو براہ راست بیان کرنے کی بجائے اکثر استعاروں، اشاروں، کنائیوں اور علامتوں کے ذریعہ پیش کرتے ہیں یا گوش گذار کرتے ہیں۔ اس شعر میں لفظ ذرے سے مراد ذرات، کیفیت سے مراد حالت نیم کا مطلب آدھا، شب کا مطلب، رات، ساقی کا مطلب، شراب پلانے والی خاتون یا شراب پلانے والا شخص ہے جبکہ فراق کے اس شعرا میں دوراں کا مطلب دور اور اور گناہوں کا مطلب گناہ ہے۔ میرے خیال میں فراق گورکھپوری کا یہ شعر اب تک لکھے گئے بہترین اشعار میں سے ایک ہے جس میں یہ شعراء اس عبوری منتقلی کے دور کی نہایت ہی حسین تصویر پیش کرتا ہے جس سے ہم اور ہمارا معاشرہ گذر رہا ہے۔ باالفاظ دیگر ایک پسماندہ نیم جاگیردارانہ معاشرے سے ایک عصری یا جدید صنعتی معاشرہ کی طرف منتقل ہورہا ہے۔ کیفیت نیم شبی کے لفظی معنی ہیں، آدھی رات کی کیفیت اس سے پہلی بات یہ ظاہر ہوتی ہے کہ ہم ایسے عہد یا دور میں زندگی گذار رہے ہیں جو نہ مکمل رات ہے نہ مکمل دن، نہ پوری طرح قرون وسطیٰ کا زمانہ ہے اور نہ ہی پوری طرح جدید دور بلکہ دونوں ادوار کے درمیان ایک عبوری کیفیت ہے۔ سارا معاشرہ بے چینی، انتشار، افراتفری اور کشمکش کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ معاشرہ میں ایک زبردست سماجی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ تغیر برپا ہے جو چیز ماضی میں بالکلیہ طور پر درست اور قابل قبول سمجھی جاتی تھی، آج معاشرے کا باشعور طبقہ اس چیز کو غلط قرار دیتا ہے جبکہ جو بات پہلے غلط تصور کی جاتی تھی، اب اسی چیز کو قابل قبول سمجھا جانے لگا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ لفظ نیم شبی اس ذہنی کیفیت کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں کوئی فرد درمیانی شب اچانک جاگنے کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس وقت انسان کچھ دیر کیلئے حیرت و الجھن اور نیم بیداری کی حالت میں ہوتا ہے۔ شعر کے لفظ ہر ذرہ ہر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پورا معاشرہ اس حیرانی اور اضطراب کی کیفیت سے گذر رہا ہے۔ شعر کے دوسرے مصرعہ میں ائے ساقی دوراں دراصل اس عبوری منتقلی کے دور کے انسانوں سے خطاب ہے اور یہ گناہوں کی گھڑی ہے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایسا زمانہ ہے جس میں پرانی اور نئی اقدار ایک دوسرے سے ٹکرا رہی ہیں، جس چیز کو معاشرے کا ایک طبقہ گناہ سمجھتا ہے، دوسرا طبقہ اسے نیکی اور فضیلت قرار دیتا ہے اور اس کے برعکس بھی، جیسے شیکسپیئر نے اپنے مشہور ڈرامہ MACBETH میں کہا تھا جو اچھا ہے وہ برا ہے اور جو برا ہے وہ اچھا ہے۔ پھر اس عبوری دور میں اقدار اور اخلاقی پیمانہ نے اُلٹ پلٹ کر رہ گئے ہیں۔ انتہائی اختصار اور فنی مہارت کے ساتھ شاعر نے اس عبوری منتقلی دور کی بنیادی خصوصیات کو بیان کردیا ہے جس سے آج ہندوستان گذر رہا ہے یعنی ایک جاگیر دارانہ زرعی معاشرے سے جدید صنعتی معاشرہ کی طرف منتقلی، شاعر نے صرف دو مصرعوں میں وہ بات کہہ دی ہے جسے بیان کرنے کیلئے کئی جلدوں پر مشتمل کتابیں درکار ہیں۔
ہندوستان میں منتقلی کا عبوری دور: عبوری دور تاریخ کا ایک نہایت تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے، جب یوروپ اس دور سے گذر رہا تھا سولہویں صدی سے اٹھارہویں صدی عیسوی تک تو وہاں بڑی بے چینی، ہنگامہ آرائی، مذہبی اصلاحات اور اصلاحات کے خلاف مزاحمت، جنگیں، انقلابات، افراتفری، سماجی تبدیلیاں اور فکری کشمکش اپنے نقطہ عروج پر تھیں، اس دور میں locke،voltaire، Reusseau وغیرہ دانشور، مفکرین کے نظریات سامنے آئے ہیں۔ یوروپ میں جدید معاشرہ اس آزمائش اور آگ سے گذرنے کے بعد وجود میں آیا۔ ہندوستان بھی فی الوقت اسی آزمائشی دور سے گذر رہا ہے، ہم اپنی تاریخ کے ایک نہایت کٹھن مرحلے میں ہیں جو میرے خیال میں اگلے 15 سے 20 سال تک جاری رہے گا۔ اس کے اختتام پر ایک تاریخی انقلاب برپا ہوگا جس کے بعد ایک نیا سیاسی اور سماجی نظام وجود میں آئے گا، اس نظام کے تحت تیز رفتار صنعتی ترقی ہوگی اور عوام کے معیار زندگی میں مسلسل بہتری آئے گی، اس وقت ہندوستان نہ پوری طرح جاگیر دارانہ ہے اور نہ مکمل طور پر جدید بلکہ ان دونوں کیفیتوں کے درمیان ایک عبوری حالت میں ہے۔ ہم ابھی کسی حد تک نیم جاگیردارانہ معاشرہ میں ہیں جس کا ثبوت ہمارے ملک پر بڑے پیمانے پر موجود ذات پات کی تفریق اور فرقہ واریت ہے۔ یہ دونوں جاگیردارانہ قوتوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور ہندوستان کی سیاست بڑی حد تک ان ہی بنیادوں پر چلتی ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان میں صنعتی ترقی اور جدیدیت بھی ایک حد تک فروغ پاچکی ہے اور آزادی کے بعد زیادہ تر ریاستوں میں قانون انسداد زمینداری نافذ کئے گئے جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہندوستان مکمل طور پر جاگیردارانہ معاشرہ نہیں رہا۔ سطور بالا میں فراق کا جو شعر میں نے پیش کیا ہے، وہ نہایت ہی اختصاد کے ساتھ اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ منتقلی کے اس دور میں ہندوستان کس طرح کے حالات کس طرح کی صورتحال سے گذر رہا ہے۔ معاشرہ میں زبردست سماجی ہلچل پائی جاتی ہے۔ پرانی اقدار کو چیلنج کیا جارہا ہے، باالفاظ دیگر ہمارے معاشرہ کے قدامت پسند طبقہ کی نظر میں جو چیزیں اچھی سمجھی جاتی تھیں مثلاً ذات پات پر مبنی تفریق میں یقین رکھتا اور دلتوں کو کمزور و پسماندہ سمجھتا، آج ہمارے معاشرہ کا روشن خیال وسیع الذہن، وسیع القلب طبقہ انہیں غلط اور قابل مذمت سمجھتا ہے۔ اسی طرح جن باتوں کو قدامت پسند طبقہ پہلے برا سمجھتا تھا مثلاً بین ذات پات اور بین المذاہب شادیاں، محبت کی شادیاں وغیرہ انہیں آج روشن خیال طبقہ قابل قبول تصور کرتا ہے۔ حال ہی میں کینیڈا کے شہر وپنکوور میں مقیم نوین گری نے جو سابق صدرجمہوریہ وی وی گری کے پڑپوتے ہیں، میرا اور سابق مرکزی وزیر و رکن پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل کپل سبل کا انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو میں راقم الحروف نے فراق گورکھپور کے مذکورہ شعر کے معنی و مطالب کی تشریح کی اور یہ بھی کہا کہ پنجابیوں نے اُردو ادب کے فروغ میں غیرمعمولی خدمات انجام دی ہیں، میں نے دنیا کے بہت سے ملکوں اور زبانوں میں کی جانے والی شاعری کا مطالبہ کیا ہے، جن میں انگریزی، فرنچ، جرمن، اطالوی، ہسپانوی اور لاطینی، امریکی زبانوں میں کی جانے والی شاعری شامل ہے۔ اس طرح میں نے ہندوستان کی مختلف زبانوں مثلاً ہندی، بنگلہ ، تمل، کشمیری وغیرہ کی شاعری کا بھی مطالعہ کیا ہے، اس کے بعد میں پورے اعتماد پورے بھروسہ کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ دنیا کی کوئی بھی شاعری انسانی دل کی آواز کو اتنی قوت ، گہرائی اور ایسی پرکشش و دلکش طرز بیان یا انداز بیان کے ساتھ پیش نہیں کرتی جتنی اُردو شاعری کرتی ہے۔ اس لحاظ سے میں اُردو شاعری کو دنیا کی عظیم ترین شاعری قرار دیتا ہوں۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ پہلے بھی اور اب بھی ہندوستان میں ایسے متعصب اور پاگل لوگ ہیں جو ایک عظیم زبان کو اس کے اپنے ہی پیدائشی مقام پر دبانا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کا بے بنیاد اور جھوٹا دعویٰ ہے کہ اُردو صرف مسلمانوں کی زبان ہے وہ لوگ اردو کو مسلمانوں سے جوڑتے ہیں حالانکہ اردو ہندوستانیوں کی زبان ہے۔ درحقیقت 1947ء تک بھی ہندوستان کے مختلف علاقوں میں اردو تمام تعلیم یافتہ لوگوں کی زبان تھی۔ چاہے وہ ہندو ہوں یا مسلمان، سکھ یا عیسائی، تمام تعلیم یافتہ ہندوستانیوں کی زبان اردو تھی جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اپنے مضمون کے ابتدائی سطور میں راقم نے جو شعر کو اب تک لکھے گئے اشعار میں سب سے بہترین شعر قرار دیا ہے، کسی مسلمان نے نہیں بلکہ، ایک ہندو شاعر (فراق گورکھپوری) نے لکھا، ان کا حقیقی نام رگھوپتی سہائے تھا اور جس وقت میں الہ آباد یونیورسٹی کا طالب علم تھا، فراق میرے استاذ تھے اور ہاں میں اپنے مضمون کے اختتام پر آپ کو نوین گری کے بارے میں بتانا چاہوں گا جنہوں نے کپل سبل اور میرا انٹرویو لیا۔ نوین، دہلی میں ایک وکیل تھے، وہ وینکوور کینیڈا منتقل ہوئے جہاں انہوں نے اپنی اہلیت کے ساتھ کامیاب وکالت کی لیکن وہ ایک ویڈیو شو ’’کیوں گھنٹی بجی‘‘ بھی چلاتے ہیں جس میں وہ ممتاز شخصیتوں کے انٹرویوز لیا کرتے ہیں۔