فیوچر سٹی اور ینگ انڈیا اسکل یونیورسٹی کو آؤٹر رنگ روڈ سے مربوط کرنے کے اقدامات

   

شمس آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے جوڑنے کا بھی منصوبہ، 420 ایکر اراضیات کے حصول کیلئے حکومت سے اعلامیہ کی اجرائی
حیدرآباد۔3۔نومبر۔(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے ’فیوچرسٹی ‘ اور ینگ انڈیا اسکل یونیورسٹی کو آؤٹر رنگ روڈ سے مربوط کرنے کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کے تحت 420 ایکڑ اراضیات کے حصول کے لئے اعلامیہ جاری کردیا ہے اور قانون حق حصول اراضیات کے تحت جاری کئے گئے اس اعلامیہ میں جن جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں بیشتر جائیدادیں کسانوں اور خانگی مالکین جائیداد کی ہیں جو کہ قانون حق حصول اراضیات کے تحت حاصل کرتے ہوئے فورتھ سٹی کو آؤٹر رنگ روڈ سے مربوط کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے جو منصوبہ تیار کیاگیا ہے اس کے تحت 6 راہداریوں پر مشتمل 20کیلو میٹر سڑک کی تعمیر کے لئے حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی نے 420 ایکڑ اراضی کے حصول کا منصوبہ تیار کیا ہے جبکہ مجموعی اعتبار سے مرحلہ وارانداز میں حکومت نے مجموعی طور پر 15 مواضعات میں 916 ایکڑ اراضی کے حصول کا منصوبہ تیار کیا ہے جو کہ 9 سڑکوں کی تعمیر کے لئے ہے اور ان تمام سڑکوں کو فیوچر سٹی یا فورتھ سٹی جس کا سنگ بنیاد چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے ماہ اگسٹ کے ابتداء میں رکھا تھا اس سے ان سڑکوں کو مربوط کیا جائے گا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ایچ ایم ڈی اے نے جو منصوبہ تیار کیا ہے اس کے مطابق فیوچر سٹی کو نہ صرف آؤٹر رنگ روڈ سے مربوط کیا جائے گا بلکہ راجیو گاندھی انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے مربوط کرنے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جا رہاہے۔ حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے ذرائع کے مطابق 916ایکڑ اراضی جو حاصل کی جانی ہے اس میں جملہ 560 ایکڑ خانگی اراضیات ہیں جبکہ مابقی اراضیات سرکاری ہیں یا پھر محکمہ جنگلات کی ہیں جو کہ حکومت کی جانب سے حاصل کرتے ہوئے سڑکوں کی تعمیر کے اقدامات کئے جائیں گے۔پہلے مرحلہ میں جو 420اراضی حاصل کرتے ہوئے سڑک کی تعمیر کے سلسلہ میں اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اس کے مطابق موضع کونگراخرد مہیشورم منڈل‘ فیروز گوڑہ اور کونگراکلاں مواضعات جو کہ ابراہیم پیٹ منڈل میں شامل ہیں ان کی اراضیات ہیں۔ اسی طرح لیمور ‘ راچالور‘ گومڈ ویلی ‘ پنجہ گوڑہ اور میر خان پیٹ جو کہ کندوکور منڈل ضلع رنگاریڈی میں ہیں ان علاقوں کی اراضیات ہیں جنہیں حکومت کی جانب سے حاصل کرنے کے سلسلہ میں اعلامیہ جاری کیاگیا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے فیوچر سٹی کی ترقی کے سلسلہ میں جاری اقدامات اور ینگ انڈیا اسکل یونیورسٹی کی تعمیر کے سلسلہ میں جاری منصوبہ بندی کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ اندرون ایک برس ریاستی حکومت کی جانب سے ینگ انڈیا اسکل یونیورسٹی کے تعمیراتی کاموں کو مکمل کرلیا جائے گا کیونکہ حکومت تلنگانہ نے اس یونیورسٹی کے لئے اراضی مختص کرتے ہوئے 100 کروڑ کا کارپس فنڈ بھی جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے علاوہ ازیں مختلف کارپوریٹ اداروں کی جانب سے ینگ انڈیا اسکل یونیورسٹی کے قیام اور تعمیر کے لئے کروڑہا روپئے کے عطیات دیئے جا رہے ہیں۔3