عدم شامل ناموں کو اپیل کی قانونی سہولت حاصل: حکومت آسام
گوہاٹی ۔ 27 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) حقیقی شہروں کی تشویش و فکر کی تائید کرتے ہوئے آسام کی حکومت نے منگل کو کہا کہ وہ اصل شہریوں کی ضرورت پڑنے پر قانونی مدد کرے گی، جن کے نام 31 اگست کو شائع ہونے والی NRC کی فہرست میں شامل نہ ہوں گے ، آسام کے ایڈیشنل چیف سکریٹری (برائے وزارت داخلہ) سنجے کرشنا نے کہا کہ جن شہروں کے نام ’’حتمی فہرست‘‘ سے چھوٹ جائیں گے انہیں کسی بھی صورت میں حراست میں نہیں رکھا جائے گا ، جب تک کہ فارینرز ٹریبونل (FTS) انہیں غیر ملکی قرار نہ دے دے۔ غیر ملکیوں سے متعلق ایکٹ بابتہ 1946 کے تحت صرف فارینرز ٹریبونل کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو غیر ملکی قرار دے دے۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’این آر سی میں کسی شخص کے نام کی عدم شمولیت کا مطلب یہ نہیں ہوتا ہے کہ اسے غیر ملکی قرار دیا جارہا ہے‘‘۔ این آر سی کی آخری اور حتمی فہرست میں اگر کسی کا نام دکھائی نہ دے تو مذکورہ افراد کی سہولت کے لئے قومی شہری رجسٹر کی دفعہ 8 اور نیشنل شناختی کارڈ قواعد بابتہ 2003 ء کے تحت نئے شناختی کارڈ کیلئے اپیل داخل کی جاسکتی ہے ۔ مرکز نے اپیل داخل کرنے کی مدت کو 60 دن سے بڑھاکر 120 دن کردیا ہے اور فارینرز (ٹریبونل) امیڈمنٹ آرڈر میں بھی ضروری ترمیم کی گئی ہے ۔ آسام میں اس قسم کے دو سو ٹریبونل قائم کئے گئے ہیں جو ایسی درخواستوں کی سماعت کریں گے ۔ مزید 200 ٹریبونل کو عوام کی سہولت کے مقامات پر قائم کیا جارہا ہے ۔ 30 جولائی 2018 ء کو جب این آر سی کا مسودہ شائع کیا گیا تھا تو اس میں 40.7 لاکھ افراد کے نام چھوٹ گئے جس سے آسام میں ایک نیا تنازعہ پیدا ہوگیا۔