بیروت: لبنان کے مزاحمتی گروپ حزب اللہ سے جڑے ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیل نے حزب اللہ کے سات افراد کو ایک سال سے زائد عرصے سے قید کر رکھا ہے۔ یہ گرفتاری ایک سال تک چلنے والی جنگی صورت حال کے دوران کی گئی۔ تاہم اب نومبر کے مہینے سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ہو چکا ہے۔ اب اکا دکا اسرائیلی گولہ باری کے علاوہ کوئی بڑی جھڑپ یا حملہ نہیں ہو رہا ہے۔علاوہ ازیں اتوار کے روز اسرائیلی فوج نے چار مزید لبنانیوں کو اتوار کے روز حراست میں لے لیا ہے۔ یہ بات بھی لبنانی ذرائع کی طرف سے بتائی گئی ہے۔ ان چار کو جنگجو نہیں بتایا گیا ہے۔واضح رہے 27 نومبر سے شروع ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے لبنانی فوج نے جنوبی لبنان میں تعینات ‘ یونیفل ‘ کی پوزیشن سنبھالنا تھی۔ تاہم اسرائیلی فوج نے ابھی لبنان سے انخلا نہیں کیا ہے۔اس کے بعد سے اب تک سینکڑوں افراد گھروں کو واپسی کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالانکہ اسرائیلی فوج جس نے ستمبر 2024 میں لبنان میں زمینی کارروائی شروع کردی تھی، مکمل طور پر پیچھے نہیں ہٹی ہے۔امریکی وائٹ ہاؤس نے اتوار کے روز اس معاہدے کوایک طرف رکھتے ہوئے معاہدے میں 18 فروری تک توسیع کر دی ہے۔لبنان کے نگراں وزیر اعظم نجیب میقاتی نے کہا ہے کہ لبنان معاہدے میں توسیع کا احترام کرے گا۔ اس معاہدے کے تحت ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کیلئے ضروری ہے کہ وہ دریائے لیطانی کے شمال سے اپنی افواج کو پیچھے ہٹائے اور جنوب میں باقی ماندہ فوجی انفراسٹرکچر کو ختم کر دے۔