تلنگانہ میں ماؤسٹ سرگرمیوں کا خاتمہ، دیہی و سرحدی علاقوں میں ترقیاتی و فلاحی کام، دہلی میں چیف منسٹرس اجلاس سے محمد محمود علی کا خطاب
حیدرآباد 26 اگست (سیاست نیوز) مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ماؤسٹ سرگرمیوں سے نمٹنے کے سلسلہ میں دونوں تلگو ریاستوں کی ستائش کی اور انہیں ملک کیلئے رول ماڈل قرار دیا۔ ماؤسٹ سرگرمیوں کا جائزہ لینے کیلئے نئی دہلی میں آج منعقدہ ریاستوں کے چیف منسٹرس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیت شاہ نے تلنگانہ اور آندھراپردیش کی ستائش کی اور کہا کہ دونوں ریاستوں میں ماؤسٹ سرگرمیوں سے بہتر انداز میں نمٹتے ہوئے امن و ضبط کی صورتحال کو قابو میں رکھا ہے۔ چیف منسٹر آندھراپردیش وائی ایس جگن موہن ریڈی نے ماؤسٹ زیر اثر علاقوں میں ترقیاتی اور فلاحی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور اس سلسلہ میں مرکز کو تجاویز پیش کی۔ وزارت داخلہ کی جانب سے اجلاس میں پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پیش کیا گیا ۔ مرکزی وزیر دیہی ترقیاتی نریندر سنگھ تومر، وزیر قبائلی بہبود ارجن منڈا اور مرکزی وزیر ڈاکٹر مہیندر ناتھ نے اجلاس سے خطاب کیا۔ تلنگانہ کی نمائندگی وزیر داخلہ محمد محمود علی نے کی۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس تلنگانہ مہیندر ریڈی اجلاس میں شریک ہوئے ۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تلنگانہ میں بائیں بازو انتہا پسندی سے نمٹنے میں کامیابی کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ سے ماؤسٹ سرگرمیوں کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ تلنگانہ ملک کی نئی ریاست ہے اور تلنگانہ تحریک کے دوران یہ گمان تھا کہ تلنگانہ بننے پر بائیں بازو کی انتہا پسندی کو بڑھاوا ملے گا اور ان کی جڑیں مضبوط ہونگی۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کی کامیاب حکمت عملی اور تلنگانہ پولیس کے اقدامات سے بائیں بازو انتہا پسندی کا مکمل خاتمہ کیا گیا ہے۔ دوبارہ ان سرگرمیوں کو پھیلنے سے روکنے چیف منسٹر نے دیہی علاقوں اور سرحدی علاقوں میں رہنے والوں کیلئے اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کے ذریعہ ملازمتیں فراہم کی ہیں ۔ صحت اور تندرستی اور تعلیم پر خاص توجہ دی گئی ۔ سرحدی علاقوں میں کسانوں کو 24 گھنٹے مفت برقی فراہم کی جارہی ہے۔ رعیتو بندھو پروگرام کے تحت سالانہ 10,000 روپئے فی ایکر اور غریب کسانوں کی موت پر 5 لاکھ روپئے کا انشورنس دیا جارہا ہے ۔ ان اقدامات کی وجہ سے انتہا پسندی کو روکنے میں کامیابی ملی۔ محمود علی نے مرکزی وزیر داخلہ سے اپیل کی کہ مرکزی مسلح فورسس کو حسب ضرورت متعلقہ ریاستوں کے اختیار میں دیا جائے ۔ انہوں نے بائیں بازو انتہا پسندی سے نمٹنے کیلئے مرکز کی جانب سے صد فیصد امداد کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں مرکز کی جانب سے مکمل معاشی مدد دی جاتی رہی لیکن بتدریج کمی کرکے اسے 60 فیصد کرلیا گیا ۔ باقی 40 فیصد گرانٹ ریاستی حکومتوں کے ذمہ کی گئی ہے جو تمام ریاستوں کیلئے ممکن نہیں۔ کئی ریاستوں کے وسائل محدود ہیں اور ان کی مجبوریاں ہیں۔ تلنگانہ ریاست نئی ہے جس کا قیام صرف پانچ سال قبل ہوا اور کئی حل طلب مسائل ہیں جس کیلئے کافی سرمایہ کی ضرورت ہے۔ اگر مرکزی حکومت بائیں بازو انتہا پسندی کو مکمل ختم کرنا چاہتی ہے تو اسے صد فیصد امداد فراہم کرنی چاہئے ۔ بائیں بازو سے متاثر علاقوں کی سڑکوں کی چوڑائی اور بریجس کی تعمیر پر عائد کردہ شرائط میں ترمیم کی سفارش کرتے ہوئے محمود علی نے سڑک کی چوڑائی کو 7 میٹر کرنے کی اجازت دینے اور بریجس کوکم از کم ایک ہزار میٹر کرنے کی تجویز پیش کی ۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسی ریاستوں چھتیس گڑھ اور مہاراشٹرا سے گوتی کویاس قبائل تلنگانہ ریاست کے دو اضلاع ملک اور کتہ گوڑم میں گزشتہ 15 برسوں سے مقیم ہیں اور ماؤسٹوں نے ان قبائل کی مدد کرتے ہوئے اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے دونوں ریاستوں کی سرحدوں پر چوکسی کی صلاح دی تاکہ ماؤسٹ سرگرمیوں کو ابھرنے سے روکا جاسکے ۔ محمود علی نے فاریسٹ کلیئرنس اور جنگلات کے حقوق سے متعلق ریاستی حکومت کو درپیش مسائل کا ذکر کیا اور کہا کہ متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والوں کو معاوضوں کی شکل میں 40 ہیکٹر جنگل تک چھوٹ دی جائے تاکہ زمین کے معاوضہ کی ضرورت نہ ہو۔ اجلاس میں دیگر ریاستوں کے چیف منسٹرس نے محمود علی کی تجاویز کی تائید کی اور مرکز سے عمل آوری کا مطالبہ کیا۔