سلمان خورشید سے محمد علی شبیر کی ملاقات، سابق ارکان پارلیمنٹ محمد ادیب اور دانش علی بھی مقدمہ میں فریق رہیں گے
حیدرآباد 6 اپریل (سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر لیڈر اور حکومت کے مشیر برائے اقلیت و کمزور طبقات محمد علی شبیر نے متنازعہ وقف ترمیمی قانون کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا اعلان کیا ہے۔ نئی دہلی میں انڈین مسلمس فار سیول رائٹس (IMCR) کے عہدیداروں سے ملاقات کے بعد محمد علی شبیر نے متنازعہ وقف قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ اور سابق وزیر قانون سلمان خورشید، راجیہ سبھا کے سابق رکن محمد ادیب اور سابق رکن پارلیمنٹ دانش علی کے علاوہ دیگر جہدکاروں نے اجلاس میں شرکت کی اور وقف ترمیمی قانون کو غیر دستوری قرار دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت نے دونوں ایوانوں میں اکثریت کی بنیاد پر قانون سازی کو منظوری دی ہے۔ سپریم کورٹ میں قانون کے نقائص کو واضح کرتے ہوئے قانون کو کالعدم قرار دینے کی اپیل کی جائے گی۔ محمد علی شبیر نے کہاکہ انڈین مسلم فار سیول رائٹس کے ذمہ داروں نے سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کی تیاری شروع کردی ہے اور پیر کے دن پٹیشن دائر کی جائے گی۔ صدرجمہوریہ کی جانب سے بل کو منظوری دیئے جانے کے بعد وقف ترمیمی قانون ملک میں نافذ ہوچکا ہے۔ محمد علی شبیر نے کہاکہ متنازعہ قانون دراصل مسلمانوں کے دستوری اور مذہبی حقوق پر راست حملہ ہے۔ وقف اداروں کے خود مختار موقف کو ختم کرنے کی سازش کی گئی ہے۔ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں اپوزیشن ارکان کی جانب سے پیش کردہ ترامیم کو مسترد کردیا گیا۔ حالانکہ پارلیمانی کمیٹی کے اُصولوں کے مطابق ارکان کے اختلافی نوٹ کو بل کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بی جے پی حکومت نے ایک منظم سازش کے تحت قانون سازی کی تاکہ ملک میں اوقافی اداروں اور جائیدادوں کو ہڑپ لیا جائے۔ اُنھوں نے کہاکہ سپریم کورٹ میں متنازعہ قانون ٹک نہیں پائے گا۔ محمد علی شبیر نے کہاکہ مسلمانوں کے لئے دو ہی راستے ہیں ایک سپریم کورٹ سے رجوع ہوکر قانون سازی کو چیلنج کرنا اور دوسرا پرامن اور جمہوری انداز میں احتجاج کرنا۔ اُنھوں نے کہاکہ کانگریس پارٹی نے ابتداء ہی سے متنازعہ قانون کی مخالفت کی ہے اور مسلمانوں کے احتجاج کی تائید کی جائے گی۔ وقف قانون دستور کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ سلمان خورشید کی قیادت میں سپریم کورٹ کے سینئر وکلاء پر مشتمل لیگل ٹیم مقدمہ کی پیروی کرے گی۔1