چینائی۔29؍جون(ایجنسیز ) مدراس ہائی کورٹ نے ٹاملناڈو حکومت پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے جس میں اس حکم کے خلاف اپیل کی گئی تھی کہ اقلیتی تعلیمی اداروں میں تعینات اساتذہ پر ٹیچر اہلیتی ٹسٹ کا اطلاق نہیں ہوتا ہے۔2022 میں حاجرہ نامی خاتون کو تروپتور ضلع کے مدرسہ اعظم گورنمنٹ ایڈیڈ پرائمری اسکول میں اردو ٹیچر کی خالی آسامی پر تعینات کیا گیا تھا۔ تاہم، ڈسٹرکٹ پرائمری اسکول ایجوکیشن آفیسر نے 2023 میں حاجرہ کی تقرری کو یہ کہتے ہوئے منظور کرنے سے انکار کردیا کہ اس نے ٹیچر کی اہلیت کا امتحان نہیں لکھا تھا۔اس حکم کو منسوخ کرنے کیلئے اسکول انتظامیہ کی جانب سے دائر کیس کی سماعت کرتے ہوئے، ہائی کورٹ نے مارچ 2024 میں پرائمری ایجوکیشن آفیسر کو ہاجرہ کی تقرری کو منظور کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کی اہلیت کا امتحان اقلیتی تعلیمی اداروں پر لاگو نہیں ہوتا ہے۔اس کے بعد ٹاملناڈو حکومت کے ڈائریکٹر پرائمری اسکول ایجوکیشن اور دیگر نے اس حکم کے خلاف مدراس ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔ درخواست کی سماعت کے بعد جسٹس آر سبرامنیم اور کے سریندر کی بنچ نے فیصلہ سنایا کہ ہائی کورٹ پہلے ہی دو احکامات دے چکی ہے کہ اقلیتی تعلیمی اداروں پر ٹیچر اہلیت کا امتحان لاگو نہیں ہوتا ہے۔اس صورت حال میں حکومت نے اب اس معاملے میں اپیل کی ہے۔ اس لیے ایک لاکھ روپے کے جرمانے کے ساتھ کیس کو خارج کیا جاتا ہے۔