حیدرآباد ۔ 27 ۔ مئی : ( راست ) : سابق چیف جسٹس آندھرا پردیش ہائی کورٹ جسٹس بلال نازکی نے پدم شری جناب مجتبیٰ حسین کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ جناب مجتبیٰ حسین اردو ادب کے ایک گرانقدر روشن ستارہ تھے ۔ ان کے انتقال سے اردو دنیا میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے ۔ انہوں نے پسماندگان کے ساتھ اظہار تعزیت کیا ۔۔
** وزیر داخلہ تلنگانہ جناب محمد محمود علی نے جناب مجتبیٰ حسین کے انتقال پر کہا کہ اردو طنز و مزاح کا آفتاب غروب ہوگیا ہے جس کا انہیں بہت دکھ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مجتبیٰ حسین کی شخصیت سب سے منفرد اور سب سے اسلوب تحریر کی طرح مختلف پھولوں کا مجموعہ تھی ۔ انہوں نے پسماندگان کو صبر جمیل کی تلقین کی ۔۔
** ڈاکٹر شیخ عقیل این سی پی یو ایل نے کہا کہ مجتبیٰ حسین کی شخصیت نہ صرف ہندوستان بلکہ پاکستان سے ہوتے ہوئے عالمی ہوگئی تھی اور عالمی مقبولیت کا راز ان کی تحریریں تھیں ۔ ان کے کارناموں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔۔
** مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے وائس چانسلر پروفیسر اختر الواسع نے جناب مجتبیٰ حسین کے انتقال کو اردو دنیا کا ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ رونے والوں کو ہنسانے والا چلا گیا ہے ۔ اب ہمیں اس منجلہ خاصان ادب کے لیے مدتوں رونا ہے ۔۔
** کانگریس کے سابق رکن راجیہ سبھا جناب ہنمنت راؤ نے اردو دنیا کی معروف شخصیت پدم شری مجتبیٰ حسین کے انتقال پر خراج پیش کیا اور شدید دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ۔۔
** جناب سید آصف پاشاہ سابق وزیر داخلہ متحدہ آندھرا پردیش نے مجتبیٰ حسین کے سانحہ ارتحال پر اردو دنیا بالخصوص طنز و مزاح کی دنیا کا ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کی تحریریں نہ صرف ظرافت سے عبارت تھیں بلکہ اردو زبان و ادب کی بقاء کی ضمانت ہونے کے ساتھ ساتھ قومی و بین الاقوامی سطح پر ہورہے ظلم و زیادتی کے خلاف شدید احتجاج کیا تھا ۔۔
** جناب جلیل احمد صدر تعمیر ملت نے مجتبیٰ حسین کے انتقال پر اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ مجتبیٰ حسین کے کارناموں اور کاموں کا دائرہ ملک گیر تھا جو ان کے خلوت سے نکال کر جلوت میں لاتا تھا اور سرگرم سفر رکھتا تھا ۔ انہوں نے پسماندگان سے اظہار تعزیت اور صبر و جمیل کی تلقین کی ۔۔
** جناب حمید الظفر سابق پی آر ایم متحدہ آندھرا پردیش اردو اکیڈیمی نے جناب مجتبیٰ حسین کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ 1956 میں عثمانیہ یونیورسٹی سے گریجویشن تکمیل کیا اور جوانی سے ہی انہیں طنز و مزاح کی تحریروں کا ذوق تھا ۔ 1962 میں محکمہ اطلاعات میں ملازمت سے وابستہ ہوئے اور 1972 میں دہلی میں گجرال کمیٹی کے ریسرچ شعبہ سے وابستہ ہوئے ۔ مختلف محکموں میں ملازمت کے بعد 1992 میں سبکدوش ہوگئے ۔ انہوں نے اردو دنیا میں بہت بڑا مقام پیدا کیا ۔ انہوں نے پسماندگان سے اظہار تعزیت کیا ۔۔
** جناب مجتبیٰ حسین کے انتقال پر سابق اپوزیشن لیڈر جناب محمد علی شبیر سابق رکن راجیہ سبھا جناب سید عزیز پاشاہ ، پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر سی ای ایم ڈی ، صدر نشین اقلیتی کمیشن جناب محمد قمر الدین ، صدر نشین تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ جناب محمد سلیم اور دیگر نے اظہار دکھ کیا اور کہا کہ اردو دنیا کو ایک عظیم نقصان ہوا ہے ۔ دنیائے ادب ایک صاحب طرز ادیب سے محروم ہوگئی ہے ۔ جن کی تحریریں ہمیشہ اردو ادب کا نادر سرمایہ رہیں گی ۔۔
** ممتاز گلوکار و آرگنائزنگ سکریٹری فائن آرٹس اکیڈیمی جناب خان اطہر نے مجتبیٰ حسین کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ۔۔
** القلم اردو سوسائٹی حیدرآباد نے سوسائٹی ہذا کے سرپرست اعلیٰ بین الاقوامی شہرت یافتہ طنز و مزاح نگار مجتبیٰ حسین کے انتقال پر اپنے تعزیتی بیان میں اظہار تعزیت کیا ۔ صدر سوسائٹی جناب آغا سروش ، محترمہ قمر جمالی اور سکریٹری سید علی طاہر عابدی نے سرپرست اعلیٰ کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ۔ انہوں نے پسماندگان کو صبر و جمیل کی تلقین کی اور مرحوم کی مغفرت کی دعا کی ۔۔
** بین الاقوامی ممتاز مزاح نگار جناب مجتبیٰ حسین کے انتقال پر زاویہ ادب لٹریری سوسائٹی نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے بیان میں جناب مظہر الحق صدر اور جناب فراز رضوی نے خراج پیش کیا اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی اور پسماندگان کو صبر و جمیل کی تلقین کی ۔۔
** قاری دستگیر خاں قادری صدر ادارہ محبوبیہ اسلامی اسکول واقع بنگلہ بینی دبیر پورہ نے اور ارکان انتظامی کمیٹی نے جناب مجتبیٰ حسین کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ۔ حافظ محمد حمید اللہ خاں ، مولوی سید ابو طاہر ، ابو تراب خاں ، مولوی فتح محمد خاں ، حافظ سلطان نے دعائے مغفرت کی اور پسماندگان کو صبر و جمیل کی تلقین کی ۔۔
مزاح نگار مجتبیٰ حسین کی تحریروں میں شیرینی و علم کی وسعت
سانحہ ارتحال پر محمد رحیم الدین انصاری کا اظہار تعزیت
حیدرآباد۔27مئی (سیاست نیوز) ممتاز مزاح نگار جناب مجتبیٰ حسین کے سانحہ ٔ ارتحال پر صدرنشین تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈمی جناب محمد رحیم الدین انصاری نے اپنے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجتبیٰ حسین کو خاکہ نگاری ‘ شخصیت نگاری ‘مزاحیہ مضامین لکھنے پر دسترس حاصل تھی اور ان کا اشہب قلم قرطاس ابیض پر اپنی رفتار و گفتار کی جولانیاں دکھاتا تھا اور خود ان کی شخصیت ان کے اسلوب تحریر کی طرح مختلف پھولوں کا مجموعہ اہل دلوں کی تپش‘ شبوں کا گداز‘ شعر و ادب کے قلم کا سازیہ سب کچھ ان کی ذات میں اس طرح جمع ہوگیا تھا کہ ان کی شخصیت سب سے منفرد اور سب سے ممتاز ہوگئی تھی ۔ مرحوم کی شخصیت نہ صرف ہند و پاک بلکہ عالمی شہرت کی حامل ہوچکی تھی اور عالمی مقبولیت کا راز ان کی تحریروں کی شیرینی اور علم کی وسعت میں پوشیدہ تھا‘ن کے کارناموں اور کاموں کا دائرہ ملک گیر تھاجو ان کو خلوت سے نکال کر جلوت میں لاتا تھا وار سرگرم سفر رکھتا تھا ۔جناب محمد رحیم الدین انصاری نے اپنے تعزیتی پیام کے دورا ن کہا کہ مرحوم انتہائی منکسرالمزاج تھے ۔انہوں نے جناب مجتبیٰ حسین کی شخصیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شخصیت ان کے کردار کی غماز ان کی تحریریں‘ مضامین اور خاکے ہیں ۔صدرنشین اردو اکیڈمی نے کہا کہ ان کے انتقال کی خبر سن کر ایسا محسوس ہوا کہ شاخ گل سے پھول ٹوٹ کرگرگیاکوئی مرغ خوش نوا شاخ پر بیٹھا چہچہایا اور اڑ گیا اور ایک مرد صالح رخصت ہوا۔جناب رحیم الدین انصاری نے مرحوم کے پسماندگان کے علاوہ ادارۂ سیاست کے ارباب سے بھی اظہار تعزیت کیاکیونکہ جناب مجتبیٰ حسین ابتداء سے روزنامہ سیاست میں اپنے مضامین اور خاکے تحریر کرتے رہے ہیں۔
اردو طنز و مزاح نگاری کا آخری باب بھی تمام ہوا
انجمن ترقی پسند مصنفین کے صدر پروفیسر فاروقی بخشی و دیگر کا اظہار تعزیت
حیدرآباد ۔ 27 ۔ مئی : ( راست ) : مجتبیٰ حسین اردو طنز و مزاح نگاری کی کتاب کا وہ آخری باب تھے جس کی تابانی رہتی دنیا تک قائم رہے گی ۔ انہوں نے اردو طنز و مزاح نگاری کے وہ اعلیٰ نمونے پیش کیے اور اس میدان میں وہ مثال قائم کی جسے کبھی فراموش نہ کیا جاسکے گا ۔ ان خیالات کا اظہار انجمن ترقی پسند مصنفین ، تلنگانہ کے صدر پروفیسر فاروق بخشی نے معروف طنز و مزاح نگار پدم شری مجتبیٰ حسین کے سانحہ ارتحال پر اپنے بیان میں کیا ۔ پروفیسر نے کہا کہ مجتبیٰ حسین نے ایک صنف کی حیثیت سے طنز و مزاح نگاری کے وقار کو قائم بھی رکھا اور اپنی اعلیٰ نگارشات کے ذریعے اس میدان میں نئے پیمانے مقرر کیے ۔ وہ ذہنی طور پر ترقی پسند جمہوریت نواز اور ایک مکمل سیکولر شخصیت کے مالک تھے ۔ ملک کے موجودہ حالات سے دل برداشتہ بھی تھے جمہوری اقدار کی زبوں حالی پر دل گرفتہ بھی ۔ اسی دل برداشتگی کی وجہ سے انہوں نے اپنا پدم شری ایوارڈ سرکار کو واپس کردیا تھا ۔ اس وقت کہے گئے ان کے الفاظ یاد کر کے دل بھر آتا ہے : ’’ جس جمہوریت کے لیے ہم نے لڑائی کی آج اس کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں ۔ اس لیے میں حکومت کا کوئی ایوارڈ اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتا ۔ پورے ملک میں خوف کا ماحول ہے ۔ مجھے یہ بھی دکھ ہے کہ میں اپنے ملک کو کس حالت میں چھوِڑ کر جارہا ہوں ‘‘ ۔ وہ زندگی بھر ان نظریات کی پاسداری کرتے رہے جو اس ملک کی تاریخ ہے جسے آج بے دردی سے مٹایا جارہا ہے ۔ مجتبیٰ حسین کے ادھورے کاموں کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ان تمام دانشوروں ، ادیبوں اور شاعروں کی ہے جو روشن خیالی کو اپنا ضمیر اور ترقی پسند اقدار کو اپنا رہنما سمجھتے ہیں ۔ اس موقع پر سابق ممبر راجیہ سبھا سید عزیز پاشاہ ، مشہور افسانہ نگار قمر جمالی ، پروفیسر بیگ احساس ، محترمہ اودھیش رانی ، پروفیسر یوسف رحمت زئی ، پروفیسر مجید بیدار ، محترمہ رفیعہ نوشین ، ڈاکٹر بی بی رضا خاتون ، ڈاکٹر آمنہ تحسین ، تجمل حسین اور دیگر دانشوروں نے بھی اپنے پیغامات میں رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔۔