مستحقین کو حوالہ کردہ اراضیات کی قانونی ترمیم کو واپس لیا جائے

   

اراضیات واپس دلوانے کی درخواست ، حکومت کو جواب داخل کرنے ہائی کورٹ کی ہدایت
حیدرآباد۔7۔ ستمبر۔ (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے مستحقین کو حوالہ کردہ اراضیات کے متعلق قانون میں کی گئی ترمیم کو واپس لیا جائے اور جن لوگوں کو اراضیات تفویض کی گئی ہیں انہیں واپس دلوانے کے اقدامات کے سلسلہ میں احکام جاری کرنے کی تلنگانہ ہائی کورٹ میں تلنگانہ ریپبلیکن پارٹی نے درخواست داخل کی تھی جس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آلوک ارادھے اور جسٹس این وی شرون کمار پر مشتمل بنچ نے حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اندرون 4 ہفتہ جواب داخل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ چیف جسٹس آلوک ارادھے کی بنچ پر اس درخواست کی سماعت کے دوران ٹی آر پی کے وکیل نے بتایا کہ تلنگانہ میں تفویض کردہ اراضیات کے سلسلہ میں موجود قوانین میں ترمیم سے ہونے والے نقصانات کے ازالہ کے لئے ضروری ہے کہ جن لوگوں نے ان اراضیات کو خریدا ہے ان سے یہ اراضیات واپس حاصل کرتے ہوئے انہیں دی جائیں جنہیں یہ اراضیات تفویض کی گئی تھیں۔ درخواست گذار نے بتایاکہ 1969 میں ذرائع معاش کے لئے حوالہ کی گئی ان اراضیات کو بعض متمول افراد نے معمولی قیمتوں کی ادائیگی کے ذریعہ جنہیں اراضیات الاٹ کی گئی تھیں ان سے یہ اراضیات خرید لی تھیں جو کہ اب کروڑہا روپئے کی مالیت کی اراضیات ہوچکی ہیں۔ درخواست میں بتایا گیا کہ ریاست میں 2لاکھ ایکڑ اراضیات کی نشاندہی کی گئی ہے جو کہ Assigned لینڈ کا حصہ ہیں جو کہ تیسرے فریق کے تصرف میں ہیں اور ان میں 74000 ہزار ایکڑ اراضیات صرف رنگاریڈی ضلع میں موجود ہیں جنہیں واپس حاصل کرنے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ تلنگانہ ریپبلیکن پارٹی کے جنرل سیکریٹری جو اس مقدمہ میں درخواست گذار ہیں نے بتایا کہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے سال 2018 میں کی گئی اس ایکٹ میں ترمیم کے نتیجہ میں یہ اراضیات متمول طبقہ کے تصرف میں ہیں اور ان اراضیات سے غریب کے بجائے دولتمند طبقہ جو معمولی قیمتوں کی ادائیگی کے ذریعہ یہ اراضیات خریدنے میں کامیاب ہوا ہے استفادہ کر رہا ہے۔ عدالت نے درخواست کی سماعت کے بعد حکومت تلنگانہ کے محکمہ مال اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 4 ہفتہ میں تفصیلی جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے اور کہا کہ ریاست میں ذریعہ معاش حاصل کرنے کے لئے تفویض کی گئی اراضیات کے معاملہ میں کی گئی کاروائی اور ترمیم قوانین کے امور کے متعلق تفصیلات پیش کی جائیں کیونکہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت نے جو ترمیم کی ہے وہ تفویض کردہ اراضیات کے قوانین کی بنیاد کے خلاف ہے کیونکہ اس قانون کے تحت ان اراضیات کو کسی دوسرے کے نام پر منتقل نہیں کیا جاسکتا۔